کراچی میں سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت، سیکیورٹی، تعلیم اور لیبر سے متعلق متعدد اہم بلز کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کیا، جسے ایوان نے بحث کے بعد منظور کر لیا۔ اس ترمیم کا مقصد خون کی منتقلی کے نظام کو مزید مؤثر اور ریگولیٹڈ بنانا بتایا گیا ہے۔اس کے علاوہ اجلاس میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ سے متعلق اہم بلز بھی پیش کیے گئے۔ ان بلز کے تحت دونوں اداروں کے انتظامی ڈھانچے اور ریگولیشن سے متعلق قانون سازی کی گئی۔ منظور شدہ بل کے مطابق دونوں اسپتالوں کا مکمل انتظامی کنٹرول صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔سندھ اسمبلی نے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز، پرائیویٹ گارڈز اور سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹس کے ریگولیشن سے متعلق بل بھی منظور کیا، جس کا مقصد نجی سیکیورٹی کے شعبے کو باقاعدہ قانونی فریم ورک کے تحت لانا ہے۔اسی اجلاس میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایجوکیشن سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا، جس کے تحت سندھ میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایجوکیشن کونسل کے قیام کی منظوری دی گئی۔
یہ کونسل میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار اور نگرانی کے لیے کام کرے گی۔مزید برآں سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ بل بھی ایوان میں پیش کیا گیا اور اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس بل کا مقصد محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے مالی وسائل اور منصوبوں کو منظم کرنا بتایا گیا ہے۔اجلاس کے دوران مختلف ارکان نے بلز پر بحث میں حصہ لیا اور قانون سازی کے عمل کو صوبے کے انتظامی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں میں بہتری کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ مجموعی طور پر اجلاس کو ایک اہم قانون سازی سیشن قرار دیا جا رہا ہے جس میں متعدد شعبوں سے متعلق فیصلے کیے گئے۔