عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیچھے امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سرمایہ کار اس وقت عالمی معاشی پالیسیوں، امریکی مالیاتی فیصلوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث گولڈ مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔جمعہ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا 4,527.60 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اسی طرح ہفتہ وار بنیاد پر بھی سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,529.10 ڈالر فی اونس پر بند ہوئے۔ماہرین کے مطابق جب امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا نسبتاً مہنگا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی طلب میں کمی آتی ہے اور قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ بلند شرح سود بھی سرمایہ کاروں کو سونے سے ہٹا کر منافع بخش مالیاتی اثاثوں کی طرف راغب کرتی ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی اس وقت امریکی مالیاتی پالیسیوں اور فیڈرل ریزرو کے ممکنہ فیصلوں کے گرد گھوم رہی ہے، جہاں شرح سود میں اضافے کی توقعات تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکی ہیں۔ توانائی کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی مہنگائی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے فیصلے مزید اہم ہو گئے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی عالمی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔ مختلف رپورٹس میں امریکی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثرانداز قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران سے متعلق سفارتی پیشرفت اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر رہی ہے۔اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وورش کو فیڈ چیئرمین بنانے کے اعلان نے بھی مالیاتی حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے، جس سے مستقبل کی معاشی پالیسیوں پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں چاندی کی قیمت میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ کا شکار رہیں۔ تاہم بعض ماہرین کے مطابق چاندی میں ہفتہ وار بنیاد پر محدود بہتری کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔مجموعی طور پر عالمی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ اس وقت دباؤ اور غیر یقینی کیفیت کے دور سے گزر رہی ہے، اور آئندہ دنوں میں قیمتوں کا انحصار بڑی حد تک امریکی معاشی اشاروں اور عالمی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔