احمدخان اچکزئی
محترم قارئین۔ طبی سائنس کی دنیا میں جہاں نت نئی ادویات اور پیچیدہ ترین جراحیوں کے ذریعے انسانی جسم کا علاج کیا جاتا ہے، وہاں ایک ایسا حیرت انگیز مظہر بھی موجود ہے جو انسانی ذہن اور جسم کے گہرے، پراسرار اور غیر معمولی تعلق کو ثابت کرتا ہے۔ اس سائنسی اور نفسیاتی حقیقت کو طبی اصطلاح میں "پلیسیبو ایفیکٹ" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا انوکھا عمل ہے جس میں کوئی مریض کسی دوا یا علاج کے بعد صرف اس لیے واضح اور حقیقی بہتری محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ اسے پختہ یقین ہوتا ہے کہ یہ علاج لازمی کام کرے گا، چاہے اس مخصوص طریقہ علاج یا دی جانے والی گولی میں بیماری کے خلاف لڑنے والا کوئی بھی فعال کیمیائی جز یا اصل دوا شامل نہ ہو۔ یہ اثر ثابت کرتا ہے کہ انسانی یقین اور مثبت توقعات بذاتِ خود شفایابی کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہیں۔پلیسیبو ایفیکٹ کے کام کرنے کا طریقہ کار انتہائی دلچسپ اور سائنسی طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ جب کوئی مریض کسی ایسی چیز کو استعمال کرتا ہے جسے وہ ایک مستند اور حقیقی دوا سمجھ رہا ہوتا ہے، تو درحقیقت وہ کوئی اصل دوا نہیں ہوتی بلکہ وہ محض ایک چینی کی گولی، نمکین پانی (سیرم) کا انجکشن یا پھر کسی ماہر جراح کی طرف سے کیا جانے والا صرف ایک جعلی آپریشن (Sham Surgery) ہوتا ہے۔ جب مریض اس عمل سے گزرتا ہے تو اس کا دماغ لاشعوری طور پر یہ توقع قائم کر لیتا ہے کہ اب بیماری کا خاتمہ ہو جائے گا اور جسم کو سکون ملے گا۔ یہ نفسیاتی توقع انسانی جسم کے اندر حیاتیاتی سطح پر حقیقی اور مادی تبدیلیاں لانے کا سبب بنتی ہے۔ جب یہ مثبت توقعات پروان چڑھتی ہیں تو جسم میں فوری طور پر حقیقی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید درد میں واضح کمی واقع ہوتی ہے، تیز دھڑکنیں سست ہو کر معمول پر آ جاتی ہیں اور مریض کا مجموعی موڈ انتہائی بہتر ہو جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے اس لمحے انسان کا دماغ خودبخود اینڈورفنز اور ڈوپامین جیسے قدرتی کیمیکلز خارج کرنا شروع کر دیتا ہے، جو درد کو روکنے اور خوشی کا احساس دلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ حیاتیاتی کیمیکلز دماغ کے ان مخصوص حصوں کی سرگرمی کو یکسر بدل دیتے ہیں جو جسم میں درد، تناؤ اور دباؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔یہاں یہ بات واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے کہ پلیسیبو ایفیکٹ کوئی ایسا واہمہ یا سراب نہیں ہے جسے "صرف تمہارے ذہن کی اختراع" کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے یا اسے ایک خام خیالی سمجھا جائے۔ انسانی دماغ اور جسم کا آپسی رابطہ اور بائیولوجیکل نیٹ ورک اتنا حقیقی اور مضبوط ہے کہ اس اثر کے نتیجے میں بیماری کی جسمانی علامات واقعی تبدیل ہو جاتی ہیں اور مریض بغیر کسی بیرونی کیمیکل کے تندرستی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اگر ہم روزمرہ کی طبی دنیا میں اس کی عام مثالوں کا جائزہ لیں تو سب سے نمایاں اثر درد کی روک تھام میں دیکھا گیا ہے۔ مختلف طبی تحقیقوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ محض پلیسیبو گولیاں پین کلر (درد کش دوا)
سمجھ کر کھانے سے تقریباً 30 سے 40 فیصد لوگوں کا شدید درد مکمل طور پر ختم یا کم ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کا دماغ بیرونی دوا کا محتاج ہونے کے بجائے اپنے اندر موجود درد مارنے والے قدرتی کیمیکلز کا اخراج شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح نفسیاتی امراض جیسے کہ شدید ڈپریشن، وہم اور بے چینی کے علاج میں بھی اس کا بڑا گہرا عمل دخل پایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جدید اینٹی ڈیپریسنٹ ادویات کا تجربہ کیا جاتا ہے تو وہ پلیسیبو گولیوں کے مقابلے میں صرف تھوڑا سا ہی بہتر نتائج دے پاتی ہیں، یعنی ڈپریشن کے آدھے سے زیادہ مریض صرف اچھے علاج کی امید اور یقین سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ پارکنسنز (رعشہ) جیسی اعصابی اور پیچیدہ بیماری میں بھی، جہاں مریض کے جسمانی اعضاء کانپتے ہیں، پلیسیبو اثر کے ذریعے مریض کا دماغ عارضی طور پر ڈوپامین کی مقدار بڑھا دیتا ہے جس سے اس کی حرکات و سکنات میں عارضی بہتری آ جاتی ہے۔طبی اور نفسیاتی علوم میں پلیسیبو ایفیکٹ کی اہمیت مسلمہ ہے۔ شعبہ طب اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں جب بھی کوئی نئی دوا تیار کی جاتی ہے، تو اسے مارکیٹ میں لانے سے پہلے سخت کلینکل ٹرائلز (طبی تجربات) سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان ٹرائلز کے دوران ہر نئی دوا کو پلیسیبو کے اثر سے بہتر نتائج دکھانے ہوتے ہیں۔ ماہرین مریضوں کے ایک گروپ کو اصل دوا دیتے ہیں اور دوسرے گروپ کو نظر نہ آنے والی پلیسیبو (جعلی) گولی دیتے ہیں۔ اگر نئی دوا پلیسیبو گولی کے اثر سے زیادہ نمایاں اور بہتر نتائج فراہم نہ کر سکے، تو اسے ناکام تصور کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوا کے اندر موجود کیمیکل واقعی کوئی اضافی کام کر رہا ہے یا وہ صرف مریض کی نفسیاتی توقع کا نتیجہ ہے۔ نفسیات کے میدان میں یہ اثر یہ واضح کرتا ہے کہ انسان کا اندرونی یقین، ماضی کا تجربہ اور کنڈیشننگ (سیکھا ہوا رویہ) کتنے طاقتور عناصر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک معالج اور مریض کے درمیان قائم ہونے والے قابلِ اعتماد اور ہمدردانہ تعلق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں ڈاکٹر کا محض تسلی دینا ہی مریض کے آدھے مرض کو ختم کر دیتا ہے۔جہاں پلیسیبو ایفیکٹ کی طاقت حیرت انگیز ہے، وہیں اس کی سائنسی حدود اور قیود کو جاننا بھی نہایت ضروری ہے۔ پلیسیبو ایفیکٹ کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے، یہ کسی حادثے میں کٹا ہوا ہاتھ یا عضو دوبارہ نہیں اگا سکتا اور نہ ہی یہ کینسر جیسے جان لیوا یا مہلک رسولی والے امراض کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔ اس کا اثر بنیادی طور پر صرف ان جسمانی اور اعصابی علامات پر ہوتا ہے جنہیں انسانی دماغ براہِ راست کنٹرول اور ریگولیٹ کر سکتا ہے، مثلاً درد کا احساس، دائمی تھکن، ذہنی موڈ کا اتار چڑھاؤ، چکر آنا اور متلی ہونا۔ ان علامات کو دماغ سگنلز کے ذریعے کنٹرول کرتا ہے، اس لیے یقین کی قوت یہاں اثر انداز ہوتی ہے۔اس پورے مظہر کا ایک دوسرا تلخ اور بالکل الٹ رخ بھی موجود ہے جسے سائنسی زبان میں "نوسیبو ایفیکٹ" (Nocebo Effect) کہا جاتا ہے۔ یہ پلیسیبو کا منفی عکس ہے۔ اگر کسی انسان کو یہ پختہ یقین ہو جائے کہ کوئی مخصوص چیز، کھانا، ہوا یا دوا اسے بیمار کر دے گی یا اسے نقصان پہنچائے گی، تو اکثر اس کا جسم واقعی بیمار پڑ جاتا ہے اور منفی اثرات کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی سب سے عام مثال روزمرہ زندگی میں اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب حساس لوگ کسی مستند دوا کے ساتھ آنے والی ہدایات کی پرچی پر اس کے ممکنہ مضر اثرات (Side Effects) پڑھ لیتے ہیں۔ وہ سائیڈ ایفیکٹس پڑھتے ہی سائنسی طور پر اپنے دماغ کو منفی سگنل بھیجتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ فوراً سر درد، چکر یا متلی محسوس کرنے لگتے ہیں، حالانکہ وہ اثرات اصل میں دوا کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف ان کے منفی خوف اور یقین کی وجہ سے جسم پر نمودار ہو رہے ہوتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ انسانی ذہن ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جو اگر ایک طرف شفایابی کا معجزہ دکھا
سکتی ہے تو دوسری طرف محض منفی وہم کے ذریعے تندرست جسم کو بیمار بھی کر سکتی ہے۔ یہی انسانی وجود کی سب سے بڑی سائنسی حقیقت ہے۔