امریکا، ایران مذاکرات کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکا، ایران مذاکرات کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

عالمی تیل منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات میں عارضی کمی قرار دی جا رہی ہے۔

 مذاکرات میں پیش رفت اور ایران کی جانب سے تیل و پیٹروکیمیکل برآمدات میں نرمی کے دعووں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ پر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 1.53 ڈالر یا تقریباً 1.9 فیصد کمی کے بعد 79.04 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ تاہم کاروبار کے ابتدائی اوقات میں قیمت 82.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ ابتدائی اضافے کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سامنے آنے والے اعلانات تھے، جنہوں نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی تھی۔اسی طرح امریکی خام تیل (WTI) کے اگست کے معاہدے کی قیمت بھی 55 سینٹ کمی کے بعد 75.30 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے خطرات میں کمی کے تاثر کی عکاسی کرتی ہے۔سوئٹزرلینڈ میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ثالثی ذرائع نے بتایا کہ آئندہ پیش رفت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ  کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کے حوالے سے بعض رعایتیں، منجمد اثاثوں تک جزوی رسائی اور ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے لیے سہولتیں حاصل ہوئی ہیں۔

توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے اس پیش رفت کو عالمی منڈیوں کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سفارتی سرگرمیوں سے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ان مذاکرات کے عملی نتائج سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری سرگرمیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کے ساتھ نازک جنگ بندی کی صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کیفیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ سفارتی پیش رفت نے تیل کی منڈی کو وقتی استحکام فراہم کیا ہے، لیکن آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال قیمتوں کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر ایران پر امریکی پابندیوں میں مزید نرمی ہوتی ہے اور خلیجی ممالک اضافی سپلائی فراہم کرتے ہیں تو عالمی منڈی میں رسد بہتر ہونے کے باعث قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھی عالمی تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، کیونکہ سرمایہ کار اس توقع کا اظہار کر رہے تھے کہ خلیجی خطے سے تیل کی فراہمی معمول پر آ جائے گی۔ اس تناظر میں عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت نے اضافی تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ عراق نے اپنی یومیہ پیداوار 4.2 ملین بیرل سے بڑھا کر 4.3 ملین بیرل تک لے جانے کا عندیہ دیا ہے، جو عالمی سپلائی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔