ایوان کے تقدس کا ہر صورت خیال پارلیمنٹ کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں:خواجہ آصف

 اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا احترام سب پر لازم ہے اور ایوان کا ماحول خراب نہیں کیا جانا چاہیے، پارلیمنٹ کو "مچھلی منڈی" بنا دیا گیا،لوگ پارلیمنٹ کے اندر آکر ویڈیوز بناتے ہیں :وزیر دفاع
اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی میں سیکیورٹی اور ایوان کے تقدس سے متعلق معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی، جہاں وزیر دفاع خواجہ آصف اور اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی، قواعد و ضوابط کی پابندی اور اقبال آفریدی کی معطلی کے معاملے پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا احترام سب پر لازم ہے اور ایوان کا ماحول خراب نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال آفریدی کے معاملے پر فیصلہ کرنا اسپیکر کا اختیار ہے اور موجودہ حالات میں سیکیورٹی کے خطرات بڑھ چکے ہیں، اس لیے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ لوگ پارلیمنٹ کے اندر آکر ویڈیوز بناتے ہیں اور پارلیمنٹ کو "مچھلی منڈی" بنا دیا گیا ہے، جو کسی صورت مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اقبال آفریدی کے طرزِ عمل کی ضمانت دیتی ہے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، تاہم ایوان کے تقدس کا ہر صورت خیال رکھا جانا چاہیے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی اراکین کو ہدایت کی کہ پاس کے بغیر کسی شخص کو پارلیمنٹ میں نہ لایا جائے کیونکہ یہ ایک سیکیورٹی رسک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ارکان کو اپنے اہل خانہ یا مہمانوں سے ملاقات کرنا ہو تو وہ اسپیکر کے دفتر کو استعمال کر سکتے ہیں، لیکن ہاؤس اور اس کی لابیز کے تقدس اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔اقبال آفریدی کی معطلی کے معاملے پر اپوزیشن کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کی تقاریر بند کر دی جاتی ہیں اور اگر بعد میں تقاریر چلائی بھی جائیں تو انہیں مناسب انداز میں نشر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ وہ کسی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کریں گے۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ایوان کو نظم و ضبط میں رکھنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقبال آفریدی کی جانب سے اسٹاف اور دیگر افراد، حتیٰ کہ ڈی جی کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، اس لیے انہیں قواعد کی پابندی اور بغیر پاسز کے مہمان نہ لانے کی یقین دہانی کرانا ہوگی۔اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے تقدس، نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا