’کاکروچ جنتا پارٹی‘ احتجاج: پولیس تشدد کی ویڈیوز دیکھنے سے بھارتی سپریم کورٹ نے انکار کر دیا

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ احتجاج: پولیس تشدد کی ویڈیوز دیکھنے سے بھارتی سپریم کورٹ نے انکار کر دیا

بھارت کی سپریم کورٹ نے نوجوانوں کی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)‘ کے مظاہرین پر مبینہ پولیس تشدد سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی کی ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں۔ تاہم چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں بینچ نے درخواست پر مزید کارروائی سے معذرت کر لی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس ویڈیوز دیکھنے کے لیے وقت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا وقت اور درخواست گزار کا وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ان ویڈیوز کو دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا گیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ درخواست میں عدالت سے معاملے کا نوٹس لینے اور مبینہ تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ بھارت میں طلبہ کا یہ احتجاج نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہوا تھا۔

 مظاہرین کی جانب سے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی، جبکہ کئی سماجی شخصیات اور بالی ووڈ سے وابستہ افراد نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔اداکار نصیرالدین شاہ اور اداکارہ راکھی ساونت سمیت بعض شخصیات نے بھی مظاہرین کے ساتھ مبینہ سلوک پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ قانون و امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے، جبکہ احتجاج سے متعلق معاملات پر مختلف فورمز پر بحث جاری ہے۔