بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔
ممبئی کے شیواجی پارک میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے زیر اہتمام احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جبکہ اداکارہ شبانہ اعظمی، اداکار نصیرالدین شاہ اور گلوکار و موسیقار وشال دادلانی سمیت معروف شخصیات بھی مظاہرے میں شریک ہوئیں۔مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا اور انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل پر اعتراضات اٹھائے۔ سی جے پی کے رہنما ابھجیت دِپکے نے اعلان کیا کہ تنظیم ’’جیل بھرو آندولن‘‘ جاری رکھے گی۔احتجاج سے قبل ممبئی پولیس نے شیواجی پارک میں مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، تاہم 2 اکتوبر کو احتجاج منعقد ہوا۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں سیکیورٹی بھی بڑھائی گئی تھی۔
انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے الزامات احتجاج کا مرکزی موضوع ہیں۔ سی جے پی سمیت بعض سیاسی گروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 13 کروڑ ووٹرز متاثر ہوئے، تاہم یہ ایک متنازع دعویٰ ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی تردید کی ہے اور سافٹ ویئر و فہرستوں کے حوالے سے جائزہ بھی شروع کیا ہے۔احتجاج میں شریک شخصیات اور مظاہرین نے انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹر فہرستوں کے حوالے سے وضاحتوں کا مطالبہ کیا، جبکہ بھارتی حکام اور الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی کارروائی قانونی طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے۔