امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر، پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، تاہم تاحال کسی بھی فریق نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران سے جاری تنازع میں ایک اہم مرحلے پر ہیں، جہاں امریکی اور اسرائیلی حکام کے بقول ان کے سامنے دو بڑے آپشن موجود ہیں۔پہلا آپشن محدود مدت کی 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو سکے اور سفارتی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے، جبکہ دوسرا آپشن امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مزید بڑی فوجی کارروائی ہے تاکہ تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی ایک حکمت عملی پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم امریکی حکام کا خیال ہے کہ آئندہ چند دن اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثالثی کی کوششوں سے آگاہ علاقائی ذرائع کے مطابق قطر، پاکستان، مصر اور دیگر ممالک نے دونوں فریقوں کے سامنے جنگ بندی کی تجویز رکھی ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم نہ امریکا اور نہ ہی ایران نے تاحال اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی سے قبل اپنی عسکری پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی روز کی فوجی کارروائیوں کے باوجود امریکا اور اسرائیل ایران کے آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ادھر امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جنگ کے خلاف اندرونِ ملک ردعمل بھی بڑھ رہا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ ہفتے کے روز جنگ بندی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی تھی، تاہم اردن میں ایرانی میزائل حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن نے اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا۔رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن امریکا اردن میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا جواب دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور صدر ٹرمپ کی ہدایت تک فوجی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔نوٹ: یہ معلومات امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ پاکستان، امریکا، ایران یا قطر کی جانب سے اس 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔