ویب ڈیسک: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مصر اور قطر کی ثالثی میں پیش کی گئی جنگ بندی کی نئی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ دونوں ممالک حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
تجویز کی تفصیلات:
فلسطینی مذاکراتی ذرائع کے مطابق مصر اور قطر کی جانب سے پیش کردہ یہ منصوبہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے فریم ورک پر مبنی ایک جامع دو مرحلوں پر مشتمل تجویز ہے۔ اس کے تحت حماس تقریباً 50 میں سے نصف اسرائیلی یرغمالیوں کو، جن میں 20 کی زندہ ہونے کی تصدیق ہے، 60 روزہ عارضی جنگ بندی کے دوران دو مراحل میں رہا کرے گی۔یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ پر بات چیت کی۔
غزہ میں انسانی بحران:
غزہ میں امداد حاصل کرنے والوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے وحشیانہ فائرنگ اور بمباری سے مجموعی طور پر 57 فلسطینی شہید ہوئے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور قحط کے باعث مزید 11 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد بھوک سے شہید ہونے والوں کی تعداد 251 ہو گئی ہے، جن میں 108 بچے بھی شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ پر قبضہ کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور شمالی غزہ سے 10 لاکھ سے زائد فلسطینی شہریوں کو جبراً جنوبی غزہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں احتجاج:
دوسری جانب اسرائیل میں ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال پر تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کیا، سڑکیں بلاک کیں اور جنگ بندی کے حق میں نعرے لگائے، جبکہ یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔