پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر نے 9 مئی کے مقدمے میں سنائی گئی سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے نجی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:"عدالت نے میرے خلاف سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمے کا فیصلہ آئین سے ہٹ کر دیا ہے، یہ سراسر غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے۔"
ملک احمد بھچر کا مؤقف:
انہوں نے الزام عائد کیا کہ میرے خلاف قانونی ضابطے مکمل کیے بغیر سزا سنائی گئی۔چھبسویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد حکومت نے عدلیہ کو اپنے تابع کر لیا ہے، جس کا اثر 9 مئی کے سیاسی مقدمات میں واضح نظر آ رہا ہے۔ان کے مطابق ایسے فیصلے انتقامی سیاست کا حصہ ہیں، جن کا مقصد اپوزیشن کی آواز دبانا ہے۔
آئندہ حکمت عملی:
ملک احمد بھچر نے واضح کیا کہ تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی جنگ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے لڑیں گے اور اپنے سیاسی اور شہری حقوق کا دفاع کریں گے۔نااہلی کے سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے، عدالت کا حتمی فیصلہ آنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔"
پس منظر:
ملک احمد خان بھچر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ وہ 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں درج توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق ایک مقدمے میں سزا یافتہ قرار دیے گئے ہیں۔ان کے مطابق یہ مقدمہ خالصتاً سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا اور اس کا مقصد انہیں انتخابی عمل سے باہر نکالنا اور پارلیمانی کردار محدود کرنا ہے۔