26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے ’’ڈیمولیشن سکواڈ‘‘ کو ہائیکورٹ میں لایا گیا، ہم نے انصاف کے ستونوں پر ایک کے بعد ایک حملہ دیکھا، حملوں نے انصاف کے نظام کو بار بار زخمی کیا
ایک جج کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو چیف جسٹس کے دفتر کے زیرِ انتظام ہفتہ وار روسٹر کے ذریعے کنٹرول کیا گیا‘ یہ صورتحال دل دہلا دینے والی اور مزاحیہ ہے: تحریری فیصلہ
اسلام آبا(آن لائن)ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے رہائی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر اسلام آبادہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اسحاق اعجاز نے وزیر اعظم شہباز شریف اور کابینہ ممبران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے دوہفتوں میں جواب کرلیا ہے اورآفس کویکم ستمبرکے بعدیہ کیس سماعت کیلئے مقررکرنے کا حکم دیا ہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اسحاق اعجازنے عافیہ صدیقی کیس میں سماعت کاتحریری حکم نامہ جاری کردیاہے۔ حکم نامہ تین صفحات پرمشتمل ہے جس میں عافیہ صدیقی رہائی متعلق کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا‘ وزیر اعظم شہباز شریف اور کابینہ ممبران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیے ہیں، عدالت نے دوہفتوں میں توہین عدالت کے نوٹس کا جواب مانگ لیاہے او رآفس کوہدایت کی ہے کہ اس کیس کویکم ستمبرکے بعدسماعت کیلئے مقررکیاجائے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیاہے جس میں کہاگیاہے کہ وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل میں قانونی معاونت نہ کرنے کی وجوہات جمع نہیں کرائیں، عدالت کے پاس وفاقی حکومت کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا، فیصلے میں مزیدکہاگیاہے کہ ایک جج کاچھٹی کے دن سماعت کے لیے آناسوائے انصاف کی فراہمی کے اور وجہ نہیں ہے۔فاضل جج نے اپنے فیصلے میں اپنے سیکرٹری سے بات کرنے اوران کے ذریعے چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کوخط بھجوانے سمیت تمام معاملات بارے بھی تحریری طورپربات کی ہے اوراسے اپنے حکم نامے کاحصہ بنایاہے۔جج نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کو 30 سیکنڈ بھی درخواست پر دستخط کرنے کیلئے نہیں ملے، ماضی میں ججز کا روسٹر مخصوص کیسز کے فیصلوں کے لیے استعمال ہو چکا ہے، فوزیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہیں، اپیل سپریم کورٹ میں مقرر ہے، جج چھٹی کے دن عدالت میں انصاف فراہم کرنے کے لیے بیٹھنا چاہتا ہے۔انھوں نے اپنے فیصلے میں مزیدلکھاہے کہ چھٹیوں کے حوالے سے جوشیڈول جاری ہوناتھاوہ اس کیس کی سماعت سے بہت پہلے جاری کردیاگیاتھا۔وہ دن چلے گئے جب ایک جج گولف کھیلتے ہوئے یافیملی کے ساتھ ڈنرکرتے ہوئے ضرورت کے تحت آرڈرجاری کرتاتھا۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تحریری حکم جاری کر دیا جس میں کہا کہ وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کے باوجود وجوہات عدالت میں جمع نہیں کرائیں،عدالت کے پاس وفاقی حکومت کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا۔انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے ''ڈیمولیشن اسکواڈ'' کو اس ہائیکورٹ میں لایا گیا، ہم نے انصاف کے ستونوں پر ایک کے بعد ایک حملہ دیکھا، ان حملوں نے انصاف کے نظام کو بار بار زخمی کیا اور اسے تقریباً آخری سانسوں تک پہنچا دیا۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ نظام انصاف پر حملوں کی آج ایک اور مثال سامنے آئی، ہائیکورٹ کے ایک جج کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو چیف جسٹس کے دفتر کے زیرِ انتظام ہفتہ وار روسٹر کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال بیک وقت دل دہلا دینے والی اور مزاحیہ بھی ہے، ایک ایسا تضاد جو اب اس ہائیکورٹ کی پہچان بن چکا ہے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو موقع دیا تھا کہ وہ اپنی رپورٹ پیش کرے،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو متنبہ کیا تھا کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنی پڑے گی، حکومت نے ترمیمی درخواست دائر کرنے کے آرڈر کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی، کسی بھی وجہ سے حکومت کا کیس سپریم کورٹ نے نہیں سنا۔عدالت نے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ ایگزیکٹو کی چالاکیاں کہیں اور ظاہر ہوئیں، اس عدالت کی کارروائی کو روسٹر کے ذریعے کنٹرول کیا گیا، اگر کوئی جج انصاف کی فراہمی کیلئے عدالت لگانا چاہے تو ہائیکورٹ انتظامیہ اسے چھٹی کے دوران اجازت نہیں دے گی۔