چیف جسٹس زیر سماعت کیس واپس لے سکتے ہیں تو رولز دکھائے جائیں جسٹس سردار اعجاز اسحاق

 عمران خان ملاقات کیسز منتقلی ہائیکورٹ جج نے نہ کی ہوتی تو یہ کریمنل توہینِ عدالت ہوتی‘قیدی کو وکیل سے ملاقات سے روک نہیں سکتے
اس کارروائی کا مطلب ہائیکورٹ کو مزید شرمندہ کرنا نہیں، میں اپنے یا اپنے کولیگز کیلئے کوئی ناخوشگوار بات نہیں چھوڑنا چاہتا:ریمارکس

اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے  ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت عیدکے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے  ہدایت کی کہ ڈپٹی رجسٹرار آئندہ سماعت پر ہائیکورٹ رولز لے کر آئیں جس کے مطابق چیف جسٹس اعتراض دور کیے بغیر درخواست پر آرڈر کر سکتا ہے، وہ رولز بھی  دکھائیں کہ  چیف جسٹس عدالت میں زیر سماعت کیس کو واپس لے سکتے ہیں۔جبکہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ عمران خان ملاقات کیسز منتقلی ہائیکورٹ جج نے نہ کی ہوتی تو یہ کریمنل توہینِ عدالت ہوتی۔ آپ قیدی کو وکیل سے ملاقات کرنے سے روک نہیں سکتے، سپرنٹنڈنٹ بیان حلفی دیتے کہ بانی نے کہا کہ مشعال ان کی وکیل نہیں، وکیل جب کہتا ہے کہ میں وکیل ہوں تواس کی بات رد نہیں کرسکتے، اگر دوسری سائیڈ کہے کہ وہ وکیل نہیں تو آپ کلائنٹ سے پوچھ لیں، آج صرف کیس منتقلی کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے۔، اس کارروائی کا مطلب ہائیکورٹ کو مزید شرمندہ کرنا نہیں، ہمیشہ کہتا ہوں کہ جج کا احتساب پبلک کرتی ہے، کہیں اور نہیں ہوتا، میں اپنے یا اپنے کولیگز کیلئے کوئی ناخوشگوار بات نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اب سوال تو یہ بھی ہے کہ ان کیسز میں ریاست کہاں کھڑی ہے؟ سوال یہ ہے کہ لارجر بینچ کی تشکیل قانونی ہے یا نہیں؟ لارجر بینچ کی عدالتی کارروائی قانونی ہے یا نہیں؟ لارجر بینچ میں سماعت ہوگی تو دیکھیں کہ کیا وہ قانونی کارروائی ہے یا نہیں۔