جون میں وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا ‘ابھی تک رپورٹ موصول نہیں ہوئی:جسٹس اعجاز اسحاق خان ‘21جولائی تک رپورٹ پیش کرنے کی مہلت
اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کو 21جولائی تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ رپورٹ پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے وزیراعظم اور وفاقی وزرا ء کوتوہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے اور عدالت طلب کرنے کا عندیہ بھی دیاہے جسٹس اعجاز اسحاق خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو پوری وفاقی کابینہ کو عدالت میں طلب کیا جائے گا، کیوں نہ وفاقی کابینہ کے تمام وزراء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟ یہ عدالت صرف کابینہ ہی نہیں بلکہ وزیراعظم کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کے دوران ان کے وکیل عمران شفیق جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر معاونت سے انکار کی وجوہات پر مبنی رپورٹ طلب کی گئی تھی لیکن تاحال عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔جسٹس اعجاز اسحاق خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو پوری وفاقی کابینہ کو عدالت میں طلب کیا جائے گا، کیوں نہ وفاقی کابینہ کے تمام وزراء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟ یہ عدالت صرف کابینہ ہی نہیں بلکہ وزیراعظم کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ جون میں وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا لیکن تاحال کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔جسٹس اعجاز اسحاق خان نے وفاق کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ہر صورت عدالت میں پیش کی جائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے پانچ ورکنگ دنوں کی مہلت مانگی جس پر جسٹس اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اگلے ہفتے سے ان کی سالانہ چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر کیس کی سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی