وزیراعظم نے ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ
پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا فیصلہ کیا‘پاکستان اس امید کا اظہار کرتا ہے اس فریم ورک کے قیام کیساتھ مستقل جنگ بندی کا نفاذ ممکن ہوگا: دفترخارجہ
مشکلات سے نکل چکے ،ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں ،معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ہورہی ہے‘،پی آئی اے کی نجکاری مکمل شفافیت کے ساتھ کی گئی :وزیراعظم
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں قدرتی وسائل کے باعث ترقی کے نئے مواقع کھلے ہیں،کے پی اور بلوچستان میں بھی ترقی کے نئے دروازے کھلے ہ:ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت ، خطاب
اسلام آباد‘ڈیووس(آن لائن)پاکستان اورترکیہ نے غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے اورپاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیاہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیئے دعوت دی گئی تھی۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ترجمان کے مطابق بورڈ آف پیس کے ذریعے مستقل جنگ بندی کے نفاذ کی امید ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے ساتھ مستقل جنگ بندی کا نفاذ ممکن ہوگا، فریم ورک کے تحت فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے، اور غزہ کی تعمیرنو کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو یہ بھی امید ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے عملی اظہار کی راہ ہموار کریں گی۔ادھرترکیہ نے عالمی‘‘بورڈ آف پیس’’میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی‘دریں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان مشکلات سے نکل چکا ، اقتصادی استحکام کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں ،معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت کے بعد اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکلات سے نکل چکا ہے اور اقتصادی استحکام کی جانب گامزن ہے۔شرح سود 22.5 فیصد سے کم ہوکر 10.5 فیصد تک آ گئی ہے اور سماجی اشاریے بہتر بنانے کے لیے مسلسل اور مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ اپنانا ہوگی۔ ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں اور ریونیو کلیکشن سسٹم مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زرعی برآمدات میں گزشتہ سال کی کارکردگی کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قدرتی وسائل کے باعث ترقی کے نئے مواقع کھلے ہیں، جبکہ کے پی اور بلوچستان میں بھی وسائل کی بدولت ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے آئی ٹی اور دیگر برآمدات میں حوصلہ افزا ترقی پر زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ نیوٹیک نوجوانوں کو عالمی معیار کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ تربیت فراہم کر رہا ہے اور نوجوان خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں ملازمتوں کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسداد دہشتگردی میں مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔