نسیم بیگ،فیصل عطا، فرقان جاوید ،وارث مسیح، موٹیس مسیح شامل ، سیکرٹری ایجوکیشن کو سزائیں متعین کرنے کااختیار مل گیا
لاہور( کرائم رپورٹر)چلڈرن ہسپتال لاہور کے گٹر میں گرنے سے تین سالہ بچے کی ہلاکت کے معاملہ پر 5افراد کو ذمہ قرار دیے دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن کو ملزمان سے جواب طلب کرکے سزا متعین کرنے کے اختیارات سونپ دیئے۔ پانچوں ملزمان سے 14دن میں جواب طلب کا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق16نومبر 2024کی دوپہر لاہور چلڈرن ہسپتال میں باسم الطاف لان میں موجود پارک میں کھیل رہا تھا کہ اچانک غائب ہوگیا اور بعد ازاں بچے کی لاش چلڈرن ہسپتال کے پارک میں موجود گٹر سے ملی تھی کیونکہ گٹر پر ڈھکن نہیں تھا جو انتظامیہ کی بہت بڑی نا اہلی تصور کی جارہی تھی۔ابتدائی انکوائری میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نسیم بیگ اے ایم ایس مینٹی ننس ، سینیٹری سپروائزر فیصل عطا ،سب انجینئر محمد فرقان جاوید ،وارث مسیح ،موٹیس مسیح واقعہ کے ذمہ دار ہیں ۔اس ساری صورتحال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب نیسیکرٹری سپیشل ایجوکیشن پنجاب صائمہ سعید کو سزائیں تجویز کرنے کے لیے افسر مقرر کر دیا ہے اورتمام 5 ملازمین کو اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب 14 دن میں انکوائری افسر کو جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ انکوائری افسر 2 ماہ میں سزائیں تجویز کر کے رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کرنے کی مجاز ہوگی۔