لاہور: طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم گرفتار

لاہور: طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم گرفتار

لاہور میں  یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تفصیلات کے مطابق، مرکزی ملزم حسیب کو پولیس نے گزشتہ رات گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کے دو دیگر ساتھی طلحہ اور حمزہ کی تلاش جاری ہے۔

 پولیس نے بتایا کہ ملزم حسیب اور اس کے ساتھیوں نے طالبہ کو سوشل میڈیا پر دوستی کے بہانے اپنے جال میں پھانس لیا تھا۔طالبہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم حسیب نے اسے ناشتے کے لیے مسلم ٹاؤن بلایا اور بعد میں اسے اپنے دو دوستوں کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر سندر کے علاقے میں واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی لے گیا، جہاں پر ملزموں نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور اس کی ویڈیو بنا لی۔ متاثرہ طالبہ نے مزید بتایا کہ ملزموں نے دھمکی دی کہ اگر اس نے اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں گے۔ اس کے علاوہ، ملزمان نے اس کے ہینڈ بیگ سے اس کی بہن کی چیک بک کے دو چیک بھی چوری کر لیے۔پولیس نے طالبہ کا طبی معائنہ کرایا ہے، اور اس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید شواہد اور حقیقت سامنے آنے کا امکان ہے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم حسیب کو گرفتاری کے بعد تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائے گی۔اس کیس کے حوالے سے شہر بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور شہریوں نے فوری انصاف کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ، جی سی یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اس واقعے پر غم اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔