پاکستان میں 54فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

 286سگریٹ برانڈز پر منظور کردہ ہیلتھ وارننگ اور نہ ہی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ٹیکس اسٹیمپ موجود پائی گئی
332سگریٹ برانڈز حکومت کی جانب سے طے کردہ کم از کم قیمت سے بھی کم پر فروخت ہورہے ہیں،رپورٹ 
 اسلام آباد(آئی این پی )ملک میں ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس اسٹیمپ کے بغیر 54فیصد غیر قانونی سگریٹ فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کی تحقیق سامنے آگئی، سگریٹ انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی موجودہ صورتحال پر سروے رپورٹ جاری کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس کے حوالے سے سروے مختلف 19اضلاع میں کیا گیا۔ سروے میں کل 413سگریٹ برانڈز کی نشاندہی کی گی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ریکارڈ میں بھی 413سگریٹ برانڈز موجود نہیں ہیں جبکہ 413سگریٹ برانڈز میں سے صرف 19سگریٹ برانڈز پر ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس اسٹیمپ پائی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 413میں سے صرف 95سگریٹ برانڈز پر حکومت پاکستان کے منظور کردہ تصویری و تحریری ہیلتھ وارننگ موجود پائی گئی جبکہ 286سگریٹ برانڈز پر نہ تو منظور کردہ ہیلتھ وارننگ اور نہ ہی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ٹیکس اسٹیمپ موجود پائی گئی۔پاکستان میں سگریٹ پیکٹ پر تصویری ہیلتھ وارننگ کا قانون 2009 میں نافذ ہوا، 16 سال گزرنے کے بعد بھی حکومت پاکستان کی منظور شدہ ہیلتھ وارننگ کے بغیر سگریٹ پیکٹ سرعام فروخت ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2021 میں سگریٹ انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ کیا گیا جس کا مقصد سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کو روکنا تھا۔ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس اسٹیمپ کے بغیر 54 فیصد غیر قانونی سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں، 332سگریٹ برانڈز حکومت پاکستان کی جانب سے طے کردہ کم از کم قیمت 162.25 روپے سے بھی کم پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔