صوبائی حکومتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اوورلوڈنگ کے مسئلے کو حل کرنا ہے :جسٹس محمد علی مظہرکے ریمارکس
سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق‘ نادرا اور الیکشن کمیشن سے دوہفتے میں تحریری جواب طلب‘ نیب رولز کی عدم تکمیل پر اظہار برہمی
اسلام آباد(آن لائن)بھاری گاڑیوں اور اوورلوڈنگ کے خلاف کیس کی سپریم کورٹ آئینی بینچ کے روبرو سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں حادثات میں اموات دہشتگردی یا بیماری سے مرنے والوں سے زیادہ ہیں۔کیا حکومت کے پاس حادثات سے مرنے والوں کی تعداد موجود ہے؟ سارا مسئلہ ہی قانون پر عملدرآمد کا ہے۔جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اوورلوڈنگ کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔بھاری گاڑیوں اور اوورلوڈنگ کے خلاف کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس میں وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیے کہ اصل ایشو گاڑیوں کی اوور لوڈنگ کے مقام کا ہے۔ جب تک لوڈنگ کے مقامات کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا کنٹرول نہیں ہوسکتا۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی‘سپریم کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے کیس میں نادرا اور الیکشن کمیشن سے دوہفتے میں تحریری جواب مانگ لیا۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے نیب رولز کے مکمل نہ ہونے پربرہمی کا اظہارکیا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ اگر رولز نہیں بنانے تھے تو قانون میں شامل کیوں کیا گیا۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے نیب رولز کے عدم تکمیل پر برہمی کا اظہار کیا۔کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئییکہ مجوزہ رولز میں ایسا کیا ہے کہ ابھی تک حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔ اگر رولز نہیں بنانے تھے تو قانون میں شامل ہی نہ کیے جاتے