اسلام آباد(آن لائن)مدارس پالیسی کے مطابق داڑھی نہ رکھنے پر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیے ہیں بچے پاکستان کا مستقبل ہیں، کسی بچے کو دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاق المدارس عربیہ کے امتحانات میں بغیر داڑھی امتحان کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ کامران مرتضیٰ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارت تعلیم کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے وفاق المدارس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ وفاق المدارس کس قانون کے تحت ڈگریاں دیتی ہے؟بنیادی سوال یہ ہے کہ بچہ جو ڈگری وفاق المدارس سے حاصل کرے گا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟جج نے کہا کہ وفاقی المدارس کے ڈگری ہولڈر بچوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے پاس بچوں کو ایک ہی جیسی سہولیات میسر ہوں گی؟ عدالت وفاق المدارس کس قانون کے تحت دوسرے اداروں کو اپنے پاس رجسٹرڈ کرتی ہے؟ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں، کسی بچے کو دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔