دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی تصاویر جوڈیشل کمیشن کو بھیجی جا سکتی ہیں:ہائیکورٹ

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے  وہ اکثر دھواں چھوڑتی گاڑیاں دیکھتے ہیں مگر ٹریفک پولیس کے افسر انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔  دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی تصاویر لے کر جوڈیشل کمیشن کو بھیجی جا سکتی ہیں تاکہ کارروائی کی جا سکے۔  چیف ٹریفک آفیسر(سی ٹی او)لاہور نے عدالت میں پیش ہوکر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں، بھکاری مافیا، رکشہ ڈرائیورز اور سڑکوں پر بڑھتی ہوئی گاڑیوں سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا  50 فیصد رکشہ ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہیں ہے، تاہم ان کے لائسنس کے حصول کے لیے اتوار کا دن مختص کر دیا گیا ہے۔ رکشہ یونینز کو تجویز دی گئی ہے  رکشہ ڈرائیورز کے لیے ایک مخصوص یونیفارم مقرر کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ انار کلی میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے بھی کام کیا گیا ہے اور وہاں پارکنگ کے لیے ایک جگہ مختص کر دی گئی ہے۔ سی ٹی او نے عدالت کو یقین دہانی کرائی  ایک ماہ میں لاہور کی بارہ بڑی مارکیٹوں میں ٹریفک کے مسائل حل کر دیے جائیں گے۔  انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کے لیے ہیلمٹ پہننا ضروری ہوگا۔ اس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ بائیک پر ایک شخص تو ہیلمٹ پہنتا ہے لیکن باقی لوگ، خاص طور پر پیچھے بیٹھی خواتین اور بچے بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے ہوتے ہیں، کیا ان کی زندگی قیمتی نہیں؟۔  سی ٹی او لاہور نے عدالت کو بتایا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو "لا آبائیڈنگ سیٹیزن" کا ایوارڈ دینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں کے ساتھ ایم او یوز کیے جائیں گے تاکہ طلبہ بھی اس مہم میں شامل ہو سکیں۔