بونڈائی ساحل حملہ، آسٹریلیا میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے جائزے کا اعلان

 آسٹریلوی باشندوں کو محفوظ رکھنے کے اختیارات، ڈھانچہ، حکمت عملی انتظامات ہیں یا نہیں
سڈنی (آئی این پی)آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں بونڈائی ساحل حملے کے بعد پولیس اور قومی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق البانیز کا کہنا تھا کہ گذشتہ اتوار کو داعش سے متاثر ہو کر کیا جانے والا حملہ، ہمارے ملک میں سکیورٹی کے دوبارہ جائزے کا متقاضی ہے اور ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ بونڈائی ساحل پر یہودی کمیونٹی کی تقریب کے دوران حملے میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔پولیس کے مطابق سڈنی ساحل پر ہونے والے حملہ باپ، بیٹے نے کیا تھا اور یہ داعش کے نظریات سے متاثر تھے۔البانیز کا کہنا تھا کہ یہ جائزہ اپریل 2026 تک جاری رہے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا آفس اور کابینہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کے پاس یہود مخالف جذبات سے آسٹریلوی باشندوں کو محفوظ رکھنے کے اختیارات، ڈھانچہ، حکمت عملی اور اشتراک کے انتظامات ہیں یا نہیں۔آسٹریلیا میں تقریبا تین دہائیوں میں سب سے مہلک شوٹنگ کے تناظر میں، حکومت نے بندوقوں کے کنٹرول کو سخت کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے، جب کہ نیو ساتھ ویلز کے پریمیئر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈان کرنے پر زور دے رہے ہیں۔