اسلا م آباد(آئی این پی )خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے حکومت اور انتظامیہ نے تین ججز کے حکم نامہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا، یہ عدلیہ کی توہین ہے، ججز فیصلہ کریں کیا عدالت کو تالے لگوانے ہیں یا اپنے حکم پر عمل درآمد کروانا ہے، ہم اپنی تحریک چلائیں گے اور فیصلے پر عمل در آمد نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کریں گے جبکہ ڈاکٹر عظمی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ سب کو جاکر بتائیں یہ میرے ساتھ شدید ظلم اور ٹارچر کررہے ہیں، مرسی کو ایسے ہی مارا گیا تھا جیسے مجھے قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کررہے ہیں۔ جمعہ کو اسلام آباد میں عمران خان کی بہن عظمی خان اور ڈاکٹر فیصل کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف عمران خان کو طبی معائنے کے لئے شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جانے پر انتظامیہ اور حکومت کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا اور ایسا کر کے وہ سپریم کورٹ اورعدالت کے تین ججز کے حکم کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ اپنے احکامات پر عمل نہیں کروائے گی تو عوام کس کی جانب رخ کرے۔ یہ پاکستان کی تمام عدالتوں کی توہین ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ تین ججز نے عمران خان کے علاج شفا انٹرنیشنل میں کرنے کا حکم دیا مگر آئین و قانون سے خود کو یہ بالا تر سمجھتے ہیں۔ یہ ججز کی اور سپریم کورٹ کی توہین کی ہے ۔