پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کرنے والے اور کرانے والے کسی معافی یا رعایت کے مستحق نہیں ہیں، ان کا قانونی اور عوامی احتساب ہر صورت ہوگا۔
اپنے بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ 9 مئی دراصل ایک ناکام بغاوت تھی، جس کے تمام شواہد منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے مطابق ناکام بغاوت اور سازش کے مرتکب کردار سیاست کے لبادے میں چھپ کر خود کو بچا نہیں سکتے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیاست کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملہ اور شہداء کے مجسمے جلانا کسی طور ملک یا قوم کی خدمت نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کو کمزور کرنے کی ایک منظم سازش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں نے نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی بھی کرائی۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ عناصر اپنے کرتوتوں کو چھپانے کے لیے انتقامی سیاست اور مظلومیت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں، لیکن قوم 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کا مکمل احتساب چاہتی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "مقبولیت تو فرعون اور شیطان کی بھی بہت تھی لیکن وہ کبھی فرشتے نہیں بن سکتے۔" ان کے مطابق 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز کے تمام حربے اور تحریکیں ناکام ہوچکی ہیں اور اب انہیں اپنے گناہوں کا حساب دینا ہوگا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت اور ادارے ان واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی کو بھی قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔