حالیہ جنگ کے دوران امریکا کے میزائل ذخائر میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے، جس کا انحصار ماہرین اور پینٹاگون کے اندرونی جائزوں پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، تقریباً 45 فیصد پریسیشن اسٹرائیک میزائل استعمال ہو چکے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے میزائل حملوں میں اہم مقدار میں ہتھیار استعمال کیے ہیں۔اس کے علاوہ، تھاڈ میزائل اور پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کا بھی تقریباً 50 فیصد ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ تقریباً 30 فیصد ٹوماہاک میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے دوران امریکا نے اپنے اہم ہتھیاروں کو بڑے پیمانے پر خرچ کیا ہے، جو مستقبل میں کسی بڑے تنازعے کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قلیل مدت میں امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ہتھیار موجود ہیں، مگر چین جیسے بڑے حریف کے ساتھ بیک وقت جنگ لڑنے کے لیے موجود ذخیرہ ناکافی ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوجی طاقت اور ہتھیاروں کا ذخیرہ مستقبل میں عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔