7 سالہ بچی سے زیادتی ؛ ملزم کی 14 سال قید کی سزا کالعدم ، رہائی کا حکم

لاہور (یواین پی) عدالت نے 7 سالہ بچی سے زیادتی کے ملزم کی 14 سال قید کی سزا ختم کرتے ہوئے ملزم کی رہائی کا حکم دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 7 سال کی بچی سے زیادتی کے مقدمے میں ملزم کی 14 سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی گئی ہے اور عدالت نے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شہرام سرور چوہدری نے اس کیس میں ملزم منور کی اپیل پر سماعت کی، ملزم کے خلاف تھانہ فیصل ٹاون پولیس نے سال 2018ء میں مقدمہ درج کیا، ملزم کو لاہور کی سیشن کورٹ نے 2021ء میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھے، جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔سماعت کے دوران وکیل اپیل کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ملزم کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا، پولیس نے مقدمے میں زیادتی کی دفعات بھی تاخیر سے لگائیں‘، تاہم دوران سماعت سرکاری وکیل نے ملزم کی اپیل کی مخالفت کی اور کہا کہ ’سیشن کورٹ نے سزا قانون کے مطابق سنائی ہے‘، بعد ازاں عدالت نے کاروائی مکمل کرتے ہوئے ملزم کی اپیل منظور کرلی اور ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔علاوہ ازیں ایک دوسرے کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے لڑکی کے اغواء کے مقدمے میں کم عمر ملزم محمد نوید کی درخواست ضمانت منظور کرلی، عدالت نے فرسٹ ائیر کے طالب علم ملزم کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے ملزم کی ضمانت کم عمر ہونے کی بنیاد پر منظور کی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم نوید کی ضمانت پر 16 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے ملزم محمد نوید کی ضمانت دو لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی، قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر ملزم سے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت ٹریٹ کیا جاتا ہے، نادرا کے برتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق ملزم کی عمر 16 سال سے کم ہے جب کہ ملزم کا کیس جووینائل جسٹس سسٹم کے دائرہِ اختیار میں آتا ہے، کم سن عمر کے ملزمان کا کیس بالغ ملزمان سے مختلف ہوتا ہے، کم سن ملزمان کی بحالی ان کے ذہین کو دوبارہ جرائم میں واپسی سے روکنا ہوتا ہے۔