میرے والد زندہ ہوتے تو اپنا ایوارڈ واپس کر دیتے:شبلی فراز‘ہمیں وہ نام بھی دیں جن کو اس سال ایوارڈز دئیے گئے:حامد خان
اسلام آباد (احتشام یوسف) پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینٹرز نے کابینہ ڈویڑن کی جانب سے سول ایوارڈز کے اجراء کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر نسیمہ احسان کی زیر صدارت سینیٹ کی کمیٹی برائے تفویض شدہ قانون سازی کے اجلاس میں کابینہ ڈویڑن حکام کی جانب سے سول ایوارڈز کے اجراء کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر شبلی فراز بولے سول ایوارڈز جاری کرنے کا طریقہ کار انتہائی غلط ہے۔میرے والد زندہ ہوتے تو اپنا ایوارڈ واپس کر دیتے۔ سینیٹر حامد خان نے کہا اس ملک میں ہر قسم کے دو نمبر آدمی کو ایوارڈ دے دیا جاتاہے۔ ایسا لگتا ہے ایوارڈز دینے کا کوئی معیار ہی نہیں ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسیمہ احسان بولیں کن رولز اور قواعد کے تحت یہ ایوارڈز دئیے جاتے ہیں۔ سینیٹر حامد خان نے کہا ہمیں وہ نام بھی دیں جن کو اس سال ایوارڈز دئیے گئے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی نے سول ایوارڈز دئیے جانے کے طریقہ کار پر اظہارِ برہمی کر دیا۔ کابینہ ڈویژن حکام نے کمیٹی کو رولز آفس بزنس 1973 کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا میں اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی تبدیلی نہیں کی گئی۔ سینیٹ کمیٹی کا رولز آف بزنس 1973 میں ترامیم کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ کمیٹی میں سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر حامد خان، سینیٹر روبینہ قائم خانی شامل ہوں گے۔ سینیٹ کمیٹی اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط کا تذکرہ بھی ہوا۔ سینیٹر حامد خان نے کہا کابینہ ڈویڑن کو انکوائری کمیشن بنانے کا اختیار دیا گیا ہے۔