ملتان سے روانہ ہونے والا ٹرین مارچ روڈ کارواں میں تبدیل ہو کر اسلام آباد پہنچے گا:حافظ نعیم الرحمٰن

ملتان سے روانہ ہونے والا ٹرین مارچ روڈ کارواں میں تبدیل ہو کر اسلام آباد پہنچے گا:حافظ نعیم الرحمٰن

سکھر: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے پٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے لیوی کا خاتمہ ضروری ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیا گیا موجودہ ریلیف ناکافی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں، تاہم ان کے بقول حکومت لیوی مکمل ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکرات میں یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ لیوی میں کمی کے ساتھ ٹیکس نظام میں دیگر اقدامات کے ذریعے مالی وسائل پیدا کیے جاسکتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام پر تقریباً 135 ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے پٹرولیم لیوی واپس لی جائے۔جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پٹرولیم ریلیف پیکیج ان کے نزدیک عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ جماعت اسلامی گزشتہ کئی ہفتوں سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر احتجاج اور مذاکرات دونوں جاری رکھے ہوئے ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی اخراجات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کررہے ہیں، حکمران طبقے کے اخراجات میں کمی ہونی چاہیے۔ انہوں نے 11 ارب روپے کے ایک سرکاری طیارے کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر بھی سوالات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے جاری احتجاجی تحریک میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو یہ احساس ہورہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کا بوجھ ان کی روزمرہ زندگی کو کس طرح متاثر کررہا ہے۔ انہوں نے مختلف حکومتوں پر عوامی مسائل کے حوالے سے یکساں طرزِ حکمرانی اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ آگے بڑھتے ہوئے روڈ کارواں کی شکل میں اسلام آباد پہنچے گا۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد عوام کے مسائل اجاگر کرنا ہے اور اگر حکومت پٹرولیم لیوی کے معاملے پر عوام کو ریلیف فراہم کردے تو جماعت اسلامی کو مارچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جماعت اسلامی نے اپنے مارچ کو پُرامن رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی اور پٹرول کی دستیابی متاثر ہوئی تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے وزرا پر زور دیا کہ عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے صورتحال سے متعلق ذمہ دارانہ بیانات دیے جائیں۔جماعت اسلامی کے احتجاج اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے لیوی کے خاتمے کو اپنے احتجاجی مطالبات میں مرکزی حیثیت دے رکھی ہے۔