سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یادرہے کہ2اکتوبر2018کواستنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے دنیابھرکے میڈیامیں ایک ہلچل پیدا کردی تھی اوراس کے بعدسعودی حکومت پر عائد ہونے والے الزامات اورسعودی تردیدکاسلسلہ بھی میڈیامیں خوب اچھالاگیا۔بعض ذرائع ایک ایسے دعوے کابھی ذکرکرتے ہیں جس کے مطابق اس قتل کے پس منظرمیں سعودی قیادت کوبدنام کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی کسی خفیہ سازش کی بات سامنے آئی تھی۔یہاں تاریخی احتیاط سب سے زیادہ ضروری ہے۔
خاشقجی قتل ایک حقیقی اورعالمی سطح پرشدیدردِعمل پیداکرنے والاواقعہ تھا،مگرحالیہ کشیدگی میں میں مذکوراماراتی سازش کے دعوے کوثبوت شدہ حقیقت کے طورپرپیش نہیں کیاجاسکتا ۔ اسے اسی طرح بیان کرنامناسب ہے:یعنی ایک ایسادعوی یاخبرجوبعض حلقوں میں جمال خاشقجی کے قتل اورسازشی بیانیوں کاسایہ کے طورپرگردش کرتی رہی۔سیاست میں افواہ بھی کبھی کبھی ہتھیاربن جاتی ہے۔ اگردواتحادی ریاستوں کے تعلقات میں بدگمانی پیداہوجائے توپرانے واقعات بھی نئے معنی اختیارکرنے لگتے ہیں۔جوقصہ کل محض قیاس سمجھاجاتا تھا،آج سیاسی الزام کی صورت اختیارکرسکتاہے۔یہی بداعتمادی تعلقات کے زوال کاسب سے خطرناک مرحلہ ہوتی ہے۔
ادھرمتحدہ عرب امارات نے ابراہیمی معاہدات قبول کرکے اسرائیل کے ساتھ سفارتی،تجارتی اورسیاحتی تعلقات تیزی سیبڑھائے،اور ابراہیمی معاہدات، اسرائیل اورامارات کی جداگانہ شناخت کایہ عمل اسے خطے میں ایک الگ طاقت کی شناخت قائم کرنیکی اماراتی کوشش سے جوڑتاہے۔اس اقدام نے خلیجی سیاست کاایک پرانا قاعدہ بدل دیا۔فلسطین کا مسئلہ طویل عرصے تک عرب دنیاکی اجتماعی سیاسی شناخت کابنیادی حوالہ رہا،مگراسرائیل کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنیکیفیصلینییہ ظاہرکیا کہ بعض ریاستیں اب قومی مفادکو پرانے اجتماعی عرب موقف سے الگ تعریف کرنے پرآمادہ ہیں۔
اس پالیسی نے مسلم عوامی رائے میں امارات کی مقبولیت میں کمی کاایک ریکارڈقائم کردیاہے۔یہ تجزیہ اپنی نوعیت میں سیاسی ہے،تاہم اس سیایک بڑاسوال ضرورجنم لیتاہے: کیامعاشی ترقی،سفارتی چابک دستی اورعالمی طاقتوں سے قربت کسی ریاست کیلئے اتنی کافی ہوتی ہے کہ وہ اپنیوسیع ترتہذیبی اورعوامی حلقے کی ناراضی کونظراندازکرسکے؟ریاست کی طاقت صرف اس کے خزانے میں نہیں ہوتی۔کچھ طاقت ساکھ میں،کچھ اعتمادمیں اورکچھ اس اخلاقی سرمائے میں ہوتی ہے جونسلوں کے احساسات سے بنتاہے۔
آخری نکتہ دراصل پوری مضمون کاسب سے بڑاسوال ہے۔کیا متحدہ عرب امارات مسلم دنیاسے الگ رہ کراپنی طاقت برقراررکھ سکتا ہے؟اگرمتحدہ عرب امارات کی علاقائی صف بندی اسے مسلم دنیاکے وسیع عوامی جذبات سے دورلے جاتی ہے تووہ کب تک ایک جداگانہ طاقت کے طورپراپنی پوزیشن برقراررکھ سکتاہے۔اسی کے ساتھ اسرائیل،شام، ترکی، پاکستان اورسعودی عرب سے متعلق ایک ممکنہ نئی دفاعی صف بندی کاذکربھی سامنے آرہاہے۔یہاں ہمیں پیش گوئی کی بجائے اصول کودیکھناچاہیے۔کوئی بھی چھوٹی یادرمیانی ریاست صرف دولت سے بڑی طاقت نہیں بنتی۔جغرافیہ،آبادی،عسکری صلاحیت،سفارتی تعلقات،عوامی قبولیت،تجارتی راستے اور اتحادیوں کااعتمادمل کرطاقت کی عمارت بناتے ہیں۔اگران میں سیچند ستون کمزورپڑجائیں تودولت تنہاپوری چھت نہیں سنبھال سکتی۔
پاکستان،سعودی عرب اورترکی اگرسلامتی کے معاملات میں مزید قریب آرہے ہیں جس سے خلیج اورمشرقِ وسطی کی سیاسی بساط میں ایک نیامحورتشکیل پارہا ہے۔تاہم مذکور سہ فریقی دفاعی معاہدے اورحالیہ عسکری واقعات کی آزادانہ تصدیق کے بغیرانہیں قطعی حقیقت کی بجائے سیاسی منظرنامے کاحصہ سمجھنا چاہیے ۔البتہ ایک بات تاریخی تجربے سے اخذکی جا سکتی ہے:خطے میں مستقل امن صرف طاق ت کے توازن سے نہیں آتا،بلکہ مفادات توازن سے آتاہے ۔جس دن ریاستیں اپنے فوری فائدے کوپورے خطے کے اجتماعی استحکام پر ترجیح دینے لگیں،اسی دن جنگ کے بادل افق پرنمودارہونے لگتے ہیں۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے تعلقات کی موجودہ تصویرایک ایسے اتحادکی کہانی ہے جس کے اندرمفادات کے نئے دریچے کھل گئے ہیں۔مالی نگرانی،بینکنگ رکاوٹوں کی شکایات،یمن میں مختلف ترجیحات،ایران کے باریمیں الگ حکمتِ عملی،تیل کی سیاست، میڈیاکی کشمکش اوراسرائیل سے تعلقات یہ سب الگ الگ جزیرے نہیں بلکہ ایک ہی سمندر کی لہریں ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ریاض اورابوظہبی ایک دوسرے سیمکمل طورپرجداہوجائیں گییانہیں۔ریاستی تعلقات شطرنج کی بساط ہوتے ہیں ، نکاح نامہ نہیں کہ ایک اختلاف پررشتہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے۔دونوں کے درمیان تجارت،جغرافیہ ،سلامتی اورمشترکہ مفادات ایسے مضبوط دھاگے ہیں جنہیں ایک جھٹکے میں توڑناآسان نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ خلیج کی قیادت کاتصورکس سمت جارہاہے؟کیاآنے والا دورسعودی مرکزیت کاہوگا؟کیامتحدہ عرب امارات اپنی الگ عالمی شناخت مزیدمضبوط کرے گا؟کیاترکی،پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان سلامتی کاتعاون ایک نئے مسلم سیاسی محورکوجنم دے گا؟اورکیااسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی عرب ریاستیں اپنے عوام اوروسیع ترمسلم دنیاکے جذبات کے درمیان توازن پیداکرپائیں گی؟
یہ سوال ابھی تاریخ کے کاتب کے سامنے کھلے پڑے ہیں۔زمانہ اپنے فیصلے فورانہیں سناتا۔بعض اوقات کئی دہائیوں بعدمعلوم ہوتاہے کہ جس واقعے کوایک معمولی بینکنگ ضابطہ سمجھا گیاتھا،وہ دراصل ایک بڑے سیاسی عہدکی ابتداتھی؛اورجس اختلاف کووقتی بدمزگی کہاگیاتھا،وہ خطے کی نئی صف بندی کاپہلا ورق تھا۔
خلیج آج دولت کے اعتبارسے پہلے سے کہیں زیادہ طاقتورہے،مگرطاقت جتنی بڑھتی ہے،ذمہ داری کاپیمانہ بھی اتناہی وسیع ہوجاتاہے۔اگر اس خطے کی ریاستیں باہمی مسابقت کو دشمنی میں بدلنے کی بجائے تعاون،تدبراورمشترکہ سلامتی کی بنیادبناسکیں توعرب دنیاایک نئے عہدمیں داخل ہوسکتی ہے لیکن اگرقومی مفادات کی کشتیوں نے اجتماعی ساحل سے رشتہ توڑلیاتوممکن ہے دولت کے بلندمینارباقی رہیں، مگرسیاسی افق پرسکون کاچراغ مدھم پڑجائے۔
تاریخ بارہایہ سبق دے چکی ہے کہ اقتدارکی سب سے بلند فصیل بھی تدبرکے بغیرمحفوظ نہیں رہتی،اوردولت کاسب سے گہراخزانہ بھی اعتمادکی ایک مٹھی خاک کابدل نہیں بن سکتا۔ ریاستوں کی عظمت صرف اس میں نہیں کہ دنیاان سے خوف کھائے؛اصل عظمت یہ ہے کہ دنیاان کے فیصلوں میں وزن،ان کی دوستی میں اعتماداوران کی طاقت میں خیرکاپہلومحسوس کرے۔اورشاید خلیج کے موجودہ بحران کا سب سے بڑاسبق بھی یہی ہے۔