خلیج کا خاموش تصادم

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخِ اقوام میں بعض اختلافات توپ وتفنگ کی گھن گرج سے ظاہرنہیں ہوتے؛ان کی پہلی آہٹ بینک کی خاموش کھڑکی،تجارت کی سست رفتارنبض،سفارتی جملوں کی محتاط ساخت اورذرائع ابلاغ کے لہجے میں سنائی دیتی ہے۔ ریاستوں کے باہمی تعلقات بھی انسانی تعلقات کی طرح ہوتے ہیں: جب اعتمادکی عمارت میں پہلی دراڑپڑتی ہے توبسااوقات دروازے بندہونے سے پہلے کھڑکیوں کے شیشے چرچرانے لگتے ہیں۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کئی دہائیوں تک خلیج کے سیاسی،معاشی اورسلامتی کے نظام میں باہمی قربت،اشتراک اورمشترکہ مفادات کی علامت سمجھے جاتے رہے مگرباوثوق ذرائع ایک ایسیمنظرنامے کی تصویرپیش کرتے ہیں جس میں دونوں ریاستوں کے تعلقات اب محض دوستانہ مسابقت تک محدود نہیں رہے،بلکہ مالی نگرانی،تجارتی بے یقینی،یمن، ایران ،تیل کی سیاست،ذرائع ابلاغ کی محاذآرائی اورعلاقائی اتحادوں کے اختلاف نے اس رشتے کوایک نئی آزمائش سے دوچارکردیاہے۔یہ صورتِ حال محض دوعرب ریاستوں کا اختلاف نہیں۔خلیج کی سیاست میں سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات دوایسے ستون ہیں جن کی سمت میں تبدیلی پوری عمارت کے توازن پراثرڈال سکتی ہے۔اگرریاض اور ابوظہبی کی ترجیحات ایک دوسرے سے دورہوتی ہیں تو اس کاسایہ تیل کی منڈیوں سے لے کریمن، ایران،اسرائیل،پاکستان،ترکی اوروسیع ترمسلم دنیاتک پھیل سکتاہے۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی طرف جانے والی مالی رقوم کی منتقلی پرنگرانی سخت کردی ہے،اوراسے دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ علامت اور اختلاف کی خاموش دستک قراردیاجارہاہے۔یادرہے کہ معاشی تعلقات میں مالی ترسیلات خون کی گردش کی حیثیت رکھتی ہیں۔جب تجارت کے دروازے کھلے ہوں لیکن بینکنگ نظام احتیاط کے قفل چڑھانے لگے تومعاملہ صرف ضابطے کانہیں رہتا،اعتمادبھی سوال کی زدمیں آجاتاہے۔سفارت کاری میں بہت سے فیصلے اعلان سے پہلے عمل کی زبان بولتے ہیں۔کبھی سفیرواپس نہیں بلایاجاتا،کوئی قراردادمنظورنہیں ہوتی،مگربینکوں کی احتیاط ہی آنے والے موسم کاپتادے دیتی ہے۔
اسی لیے مالی نگرانی میں اضافہ اگرواقعی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلاف کیپس منظرمیں ہواہے تواسے محض تکنیکی اقدام قراردینامشکل ہوگا۔یہ اس امرکی علامت بن سکتا ہے کہ ریاستی اعتمادکاوہ سرمایہ،جو برسوں میں جمع ہواتھا،اب محتاط حساب کتاب کا موضوع بن رہاہے۔یہاں سب سے اہم پہلویہ ہے کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت محض دوطرفہ کاروبارنہیں، بلکہ خلیجی معیشت کے باہم مربوط ڈھانچے کاحصہ ہے۔لہذا مالی ضابطوں کی سختی کااثربالآخرتجارت،سرمایہ کاری اورنجی شعبے کے اعتمادتک پہنچ سکتاہے۔
دراصل اضافی مالی نگرانی عموماان ممالک کیلئے مخصوص ہوتی ہے جنہیں غیرقانونی مالی ترسیلات کیاعتبارسے زیادہ خطرے کا حامل سمجھاجاتاہے،اورذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کوسعودی نظام میں ایسے ممالک کے زمرے میں شامل کیاگیاہے۔یہ معاملہ اپنی ظاہری صورت میں مالی ضابطہ ہے،لیکن ریاستی تعلقات میں الفاظ کاوزن صرف لغوی نہیں، سیاسی بھی ہوتاہے۔کسی قریبی اتحادی کومالی خطرے کی بلندسطح پررکھنا،اگرایساباضابطہ طورپرکیاگیاہو،محض کاغذی کارروائی نہیں رہتی۔یہ اعتمادکی میزان میں ایک بھاری باٹ بن جاتاہے۔
تاہم اسی مقام پراحتیاط لازم ہے۔ذرائع کے مطابق یہ اقدامات باضابطہ طورپراعلان شدہ نہیں تھے۔اس لیے انہیں حتمی ریاستی پالیسی کے بجائے فراہم کردہ  ذرائع سے منسوب صورتِ حال کے طورپردیکھنازیادہ مناسب ہے۔اس کے باوجودسیاسی علامت اپنی جگہ اہم ہے۔ کبھی ریاستیں زبان سے دوستی برقراررکھتی ہیں مگرادارے خطرات کی نئی فہرستیں مرتب کرناشروع کردیتے ہیں۔یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارتی مسکراہٹ اورادارہ جاتی بے اعتمادی ایک ہی میزپر بیٹھنے لگتی ہیں۔تاہم اعلی خطرے کی مالی درجہ بندی ایک ضابطہ سے کہیں بڑھ کرسیاسی پیغام بھی سمجھاجاتاہے۔
اس اہم خبرمیں متعدد کاروباری شخصیات کاحوالہ دیاگیاہے جن کے مطابق سعودی بینکوں نے مختلف کرنسیوں میں متحدہ عرب امارات سے متعلق ادائیگیوں کومخرکیایاواپس بھیج دیا۔ دوسری جانب سعودی مرکزی بینک کسی مخصوص ملک کے خلاف براہِ راست پابندی کی تردیدکرتاہے،جبکہ اماراتی عہدیداربھی نجی شعبے سے غیرمعمولی مشکلات کی اطلاع نہ ملنے کی بات کرتے ہیں۔یہاں ایک عجیب مگرمعروف سفارتی کیفیت سامنے آتی ہے:بازارکچھ کہتاہے،ادارے کچھ اور۔
بین الاقوامی تعلقات میں سرکاری تردیدہمیشہ اس بات کاثبوت نہیں ہوتی کہ زمینی سطح پرکوئی مسئلہ نہیں،اورنجی شکایت بھی ہمیشہ منظم ریاستی پالیسی کاناقابلِ تردیدثبوت نہیں ہوتی۔ دونوں کے درمیان ایک وسیع خاکستری علاقہ موجودرہتاہے جہاں ضابطہ،احتیاط، سیاسی اشارہ اورکاروباری بے یقینی باہم مل جاتے ہیں۔اصل خطرہ اس وقت پیداہوتاہے جب سرمایہ کاریقین کھوبیٹھیں۔سرمایہ خوف کا مسافرہے؛اسے جہاں راستہ دھندلادکھائی دے،وہ منزل بدلنے میں دیرنہیں لگاتا۔کاروباری دنیاکی شکایات اورسرکاری تردید دوبیانیوں کافاصلہ بڑھنے گے اوراس کے ساتھ ہی اگرکاروباری اداروں کویہ محسوس ہونے لگیکہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان مالی نقل وحرکت سیاسی حالات کے تابع ہوسکتی ہے تووہ متبادل راستے،نئے بینکنگ مراکزاورہنگامی منصوبے اختیارکرنے لگیں گے۔
یاد رہے  سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے مفادات میں اختلاف کئی برسوں سے موجودتھا،مگرحالیہ دورمیں تیل،یمن اورایران سے متعلق علاقائی جنگ کے معاملے نے اختلاف کی جڑوں کومزید تواناکرتے ہوئے اسے زیادہ نمایاں کردیا۔درحقیقت اتحادی ریاستوں کے درمیان اختلاف کاآغازاکثردشمنی سے نہیں،ترجیحات کے فرق سے ہوتاہے ۔جب تک منزل ایک ہو،راستوں کااختلاف برداشت کیاجاتا ہے؛لیکن جب منزلیں ہی جداہونے لگیں توپرانا اتحاددبامیں آجاتاہے۔
تیل سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات دونوں کی طاقت کابنیادی ستون ہے،مگراسی لیے پیداوار،قیمت،حصص اورعالمی منڈی میں اثرورسوخ کامعاملہ دونوں کوکبھی شریک اورکبھی حریف بناسکتاہے۔یمن میں بھی دونوں کے مفادات ہرمرحلے پریکساں نہیں رہے۔ ایک ہی جنگ میں شریک قوتیں جب مختلف مقامی گروہوں سے تعلقات استوارکریں تو مشترکہ محاذکے اندردوسرا محاذپیداہوجاتاہے۔ موجودہ حالات ایران کے معاملے میں دومختلف طرزِفکر کی نشاندہی کرتے ہیں:ایک زیادہ جارحانہ،دوسرا نسبتامحتاط اورمصالحتی۔یہی فرق مستقبل میں خلیجی سلامتی کے تصورکونئی شکل دے سکتاہے۔
یہ خدشہ ظاہرکیاگیاہے کہ سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات کیبعض کھاتوں میں رقوم کی منتقلی میں تاخیریارکاوٹ دونوں ہمسایہ ممالک کی باہمی تجارت کومتاثرکرسکتی ہے۔ریاستی تعلقات کی اصل آزمائش ہمیشہ سربراہی ملاقاتوں میں نہیں ہوتی؛کبھی اس کافیصلہ کمپنی کے اکانٹس ڈیپارٹمنٹ میں ہوتاہے۔ جب  کاروبارکومعلوم نہ ہوکہ رقم کب پہنچے گی،ادائیگی واپس ہوگی یاکلیئرہوگی،توسیاسی کشیدگی اقتصادی لاگت میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اختلاف اشرافیہ کے ایوانوں سے نکل کربازارمیں داخل ہوتاہے۔
اگرسعودی اوراماراتی کمپنیوں کوایک دوسرے کے ساتھ لین دین میں زیادہ دستاویزات،طویل انتظار،اضافی بینکنگ جانچ یاادائیگی کے خطرات کاسامناکرنا پڑے تو سپلائی چینز متاثرہوسکتی ہیں اورنئے سرمایہ کاری فیصلے مخرہوسکتے ہیں۔معیشت شیشے کی طرح ہے؛ بظاہرمضبوط دکھائی دیتی ہے مگراعتماد کی ایک ضرب اسے باریک دراڑوں میں تقسیم کرسکتی ہے ۔خلیج جیسی تیزرفتاراورسرمایہ دوست معیشت میں رقوم کی تاخیراورتجارت پرگہرااورخطرناک سایہ جیسی یہ دراڑیں معمولی نہیں ہوتیں۔
(جاری ہے)