لاہور ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت شہر میں 70 ارب کے ترقیاتی کام مکمل
منصوبوں میں شجرکاری کیلئے اداروں نے ایک روپیہ بھی خرچ نہ کیا
لاہور (خصوصی رپورٹ )لاہور میں میگا پراجیکٹس تو مکمل ہو رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ درخت لگانے کی روایت ایک بار پھر نظر انداز کر دی گئی۔ گزشتہ دو سال کے دوران7ارب روپے کا بند روڈ ایکسیس کنٹرول کوریڈور اور راوی برج منصوبہ مکمل ہواجبکہ والٹن روڈ اپ گریڈیشن سمیت 300 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کی گئی تاہم ان منصوبوں میں شجرکاری کو مکمل فراموش کر دیا گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کا گہوارہ شہر لاہور شجرکاری میں پیچھے رہ گیا۔ شہر میں ہونیوالے میگا پراجیکٹس میں شجرکاری مہم کو نظر انداز کیا گیا ۔بند روڈ ایکسیس کنٹرول کوریڈور لاہور کا ہم میگا پراجیکٹ ہیجس پر 7 ارب لاگت آئی لیکن شجرکاری کرنے کی زحمت نہ کی گئی۔ قانون کے مطابق ہر میگا پراجیکٹ کے بجٹ کا ایک فیصد شجرکاری کیلئیمختص کرنا چاہیے لیکن یہ رقم یا تو خرچ ہی نہیں ہوئی یا پھر دیگر کاموں پر لگا دی گئی۔لاہور ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت شہر میں 70 ارب کے ترقیاتی کام مکمل کر لیے گئے لیکن واسا، ایل ڈی اے اور سی بی ڈی پنجاب نے ان منصوبوں میں شجرکاری کیلئے ایک روپیہ بھی خرچ نہ کیا۔ ماحول دوست اقدامات کے بجائے، سڑکوں کی بیوٹیفکیشن پر توجہ دی گئی جس سے شہر میں درختوں کی تعداد بڑھنے کے بجائے کم ہو رہی ہے۔لاہور پہلے ہی بدترین فضائی آلودگی کا شکار ہے۔ سموگ، دھواں اور بڑھتی کاربن ایمیشن کے اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہو رہے ہیں۔ اگر میگا پراجیکٹس کے ساتھ شجرکاری کی جاتی تو آلودگی کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی مگر متعلقہ اداروں نے اس پرکوئی توجہ نہ دی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لاہور میں پہلے ہی درختوں کی تعداد عالمی معیار سے کم ہے۔ ہر نیا منصوبہ، جس میں درخت نہ لگائے جائیں، فضائی آلودگی کو مزید بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ ایل ڈی اے اور سی بی ڈی پنجاب کی عدم توجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو پالیسی پر عملدر آمد کا فقدان ہے یا پھر ماحولیاتی مسائل کو سرے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔