نادرا میں بچوں کا ریکارڈ موجود ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے ٹریس ہو جاتے:چیف جسٹس
والدین کیوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے:ریمارکس،سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی
لاہور(آئی این پی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ والدین نے بچوں کا اندراج نادرا میں کیوں نہیں کروایا، اگر نادرا میں بچوں کا ریکارڈ موجود ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے ٹریس ہو جاتے، والدین کیوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے آگاہ کیا کہ ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے علاقوں میں ٹیمیں بھیجی ہیں، ہیومن ٹریفکنگ کے اینگل سے بھی کیس پر تفتیش کی ہے،۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سارے کیس کی فائل میرے حوالے کریں، پہلے میں کیس کی ساری فائل دیکھوں گی پھر تاریخ دوں گی۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی۔