پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کھیل تصور کیا جاتا ہے۔
ایسے میچز نہ صرف کرکٹ کے شائقین بلکہ اشتہاری کمپنیوں اور براڈکاسٹرز کے لیے بھی بے حد منافع بخش ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ ان دو ممالک کے درمیان میچ معمول کے مطابق منعقد ہو سکے گا یا نہیں؟
پاک-بھارت میچز کی تجارتی اہمیت
پاک-بھارت میچز کا کمرشل ایئرٹائم ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں سب سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر:
2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران ایک 10 سیکنڈ کے اشتہار کا ریٹ 60 لاکھ تک پہنچا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 میں 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 50 لاکھ تک تھی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز میں اشتہارات کی فروخت براڈکاسٹرز کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ایڈورٹائزنگ پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔
براڈکاسٹرز کے خدشات
آئی سی سی نے 2024-27 کے لیے ٹورنامنٹ رائٹس 3.1 ارب ڈالر میں فروخت کیے تھے، جس کا بڑا حصہ بھارت میں "سٹار انڈیا" کے پاس گیا۔ تاہم، حالیہ چیلنجز، جیسے خراب موسم کے سبب میچوں کی منسوخی اور بھارت کے ٹائم زون کے لحاظ سے غیر موزوں اوقات میں میچز ہونے سے براڈکاسٹرز کو نقصان اٹھانا پڑا۔زی اور سٹار کے تنازعے نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ زی انڈیا نے سٹار کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق ادائیگی نہیں کی، جس کے باعث سٹار نے لندن میں زی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔
آئی سی سی کے لیے چیلنجز
آئی سی سی کو اس وقت مالی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ براڈکاسٹرز کم بولی لگا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر معاہدے میں رعایت طلب کر رہے ہیں۔ اگر پاک-بھارت میچ نہ ہوا تو براڈکاسٹرز مزید رعایت کا مطالبہ کریں گے۔اس صورت حال میں آئی سی سی کی آمدنی متاثر ہوگی، اور پاکستان جیسے ممالک کے کرکٹ بورڈز، جو آئی سی سی کے مالی تعاون پر انحصار کرتے ہیں، کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاک-بھارت میچ کا آئی سی سی کے لیے کردار
آئی سی سی کے لیے یہ میچ اس کی مقبولیت اور آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں، اور ماضی میں بھی دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا تاکہ یہ مقابلہ یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ وہ آئی پی ایل اور دیگر معاہدوں سے پہلے ہی دنیا کا امیر ترین بورڈ ہے۔
آگے کا راستہ
اگرچہ پاک-بھارت کرکٹ میچز کا نہ ہونا براڈکاسٹرز کے لیے خسارے کا باعث بنے گا، لیکن بھارت کی معیشت اور کرکٹ کی بالادستی کی وجہ سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ دوسری جانب، پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ میچز نہ صرف مالی بلکہ کرکٹ کے فروغ کے لیے بھی اہم ہیں۔
نتیجہ:
آئی سی سی کو اس تنازعے کا حل نکالنا ہوگا تاکہ براڈکاسٹرز کو مطمئن کیا جا سکے اور تمام ممبر بورڈز کے مالی معاملات متاثر نہ ہوں۔ اس کے لیے پاک-بھارت میچز کا انعقاد آئندہ ٹورنامنٹس میں بھی یقینی بنانا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔