رباب گل
یتیم وہ ہوتا ہے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے اور وہ زندگی کی دھوپ چھاؤں میں تنہا ہو جائے۔ ایک دن میرا سامنا بھی ایسے ہی ایک شخص سے ہوا۔ جس کی زندگی کا پہلا حصّہ یعنی پچپن ہی والد کی جدائی کے زخم سے بھر گیا تھا۔ اس کے والد کی موت حادثاتی تھی اور اس کی ماں نے ننھے سے بچے کو سینے سے لگا کر تسلی دی، لیکن اتنی چھوٹی عمر میں الفاظ کی گہرائی سمجھنا ممکن کہاں ہوتا ہے؟
وقت کا پہیہ چلتا رہا۔۔۔ وقت کے ساتھ جب اس نے معاشرے کو سمجھنا شروع کیا تو اس کی ماں نے ایک دن نرم لہجے میں بتایا "بیٹا! تمہارے بابا اس دنیا میں نہیں ہیں۔ تم باپ کے سائے سے محروم ہو۔" شاید وہ الفاظ اس کے لیے ناقابلِ فہم تھے۔ بچپن تھا، بات ان سنی کر دی۔ مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، وہ الفاظ اس کے دل میں کھبنے لگے۔ زندگی میں ایک خلا محسوس ہونے لگا، ایک ایسا خلا جو کسی بھی قیمت پر بھرا نہیں جا سکتا تھا۔
محلے کے بچے اپنے والد کے ساتھ کھیلتے کودتے، بابا کے کندھوں پر سوار ہوتے اور جب وہ "بابا" کہہ کر پکارتے، تو اسے اپنی ماں کے الفاظ یاد آ جاتے۔ وہ اکیلا بیٹھا خود سے کہتا، کاش میرا بھی بابا ہوتا۔ یہ سوچ اس کے دل میں گہرے زخم چھوڑ جاتی۔
باپ کی غیر موجودگی کے دکھ نے اْس سے اْس کا بچپن چھین لیا۔ وہ کم عمری ہی میں وقت کی سختیوں کا عادی ہو گیا۔ جو عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے کی تھی، اس میں وہ خود کو ایک انجان جنگ لڑتا ہوا پاتا۔ بچوں کو باپ کے ساتھ پیار کرتے دیکھ کر اس کے اندر ایک عجیب تلخی پیدا ہو گئی۔ دکھ، غصہ اور تنہائی کے احساسات اس کے اندر ایسے گھر کر گئے کہ وہ خود سے نفرت کرنے لگا۔
زندگی نے اسے وقت سے پہلے بڑھا کر دیا تھا۔ مگر اس وقت وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وقت کی دی ہوئی سختیاں تھیں جو اسے زندگی کی حقیقت سکھا رہی تھیں۔ پھر ایک دن، میری مختصر سی ملاقات میں، اس نے اپنے اندر کے بوجھ کو زبان دی۔ پہلی بار، شاید وہ اپنے درد کو بانٹنے کے قابل ہوا۔
میں نے اس سے کہا "زندگی دکھوں سے بھری ہے، لیکن انہی دکھوں میں اللہ کی حکمت چھپی ہوتی ہے۔ یہ زخم، یہ تنہائیاں، ہمیں مضبوط کرتی ہیں۔ تم نے جو کھویا ہے، وہ تمہیں بے شک ملا نہیں لیکن جو کچھ تمہارے پاس ہے، اسے تم اپنی طاقت بنا سکتے ہو۔"
وہ سن رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک عجب سی روشنی جاگ اٹھی۔ وقت نے اسے سنبھالا اور آج وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہے۔ اپنے دکھوں کو پس پشت ڈال کر، وہ دوسروں کے لیے خوشیوں کا ذریعہ بن گیا ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ محبت اور ہمدردی کی زبان ہر دل کے لیے شفا کا کام کرتی ہے۔ جب ہم کسی کی زندگی میں مسکراہٹ بکھیرتے ہیں تو یہ صرف ایک لمحے کا عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ محبت کے چند بول کسی کی زندگی میں امید جگا سکتے ہیں، اس کے زخموں کو بھر سکتے ہیں۔
یقیناً، محبت سے بولے جانے والے الفاظ صدیوں تک اثر رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں اگر کچھ باقی رہتا ہے تو وہ ہماری دی ہوئی محبت اور وہ خوشی ہے جو کسی کے چہرے پر ہماری وجہ سے آتی ہے۔
یہی ہمارا اصل سرمایہ ہے۔