(سپریم جوڈیشل کونسل )10ججوں کیخلاف شکایات ناکافی مواد پر خارج ( سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ نہ ہو سکا)

اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے خط  پر غور ، جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججوں کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے، کوڈ آف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ 

 سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے، جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا‘سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کی تجویز پر رولز کا ڈرافٹ پیش کیا جائے گا

اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچز کے ججز کا فیصلہ نہ ہو سکا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں 11 ممبران نے شرکت کی، جسٹس جمال مندوخیل اور نمائندہ پاکستان بار اختر حسین جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان شریک ہوئے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اجلاس میں موجود تھے، اپوزیشن سے عمر ایوب اور شبلی فراز جبکہ حکومت سے فاروق ایچ نائیک، شیخ آفتاب احمد اور روشن خورشید بروچہ بطور ممبر اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط پر کوڈ آف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا، جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے، کوڈ آف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، آئندہ اجلاس میں کوڈ آف کنڈکٹ ترمیم پر غور کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی کی پیش کردہ تجویز کی توثیق کی گئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچز کے ججز کا فیصلہ نہ ہو سکا، سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے، جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 10 شکایات ناکافی مواد اور شواہد کی بنیاد پر خارج کر دیں۔۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کی تجویز پر رولز کا ڈرافٹ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور کونسل نے چیف جسٹس یحیی آفریدی کو تین ماہ کے لیے کونسل کے لیے سیکرٹری تعینات کرنے کا اختیار بھی دیا۔ اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہر ماہ بلایا جائے گا۔