برطانیہ کے ایک معروف غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، سابق برطانوی پائریٹ ریڈیو اسٹیشن ریڈیو کیرولائن نے منگل کے روز غلطی سے کنگ چارلس سوم کے انتقال کی خبر نشر کردی، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے نشریات بھی بند ہوگئیں۔
اس واقعہ نے عوام اور شاہی خاندان دونوں کو حیران اور پریشان کر دیا۔ریڈیو اسٹیشن کے منیجر پیٹر مور نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا کہ یہ غلطی اسٹوڈیو کے کمپیوٹر سسٹم میں خرابی کے باعث ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس خرابی کی وجہ سے بادشاہ کی وفات کے اعلان کا خاص پروٹوکول خودکار طور پر فعال ہوگیا۔پیٹر مور کے مطابق، برطانیہ کے تمام ریڈیو اسٹیشنز کے پاس بادشاہ یا ملکہ کے انتقال کی صورت میں ایک مخصوص نشریاتی نظام موجود ہے، لیکن اس بار یہ نظام غلطی سے متحرک ہوگیا۔ نظام فعال ہونے کے بعد ریڈیو اسٹیشن نے اپنی نشریات بند کردیں، اور عملے کو فوری طور پر صورتحال کا علم ہوا۔ پھر انہوں نے پروگرامز دوبارہ شروع کیے اور معذرت خواہی کے طور پر عوام اور شاہی خاندان سے اظہارِ افسوس کیا۔
ریڈیو اسٹیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ، "ہم شاہ چارلس اور ہمارے سامعین سے اس غلطی اور اس سے پیدا ہونے والی پریشانی پر معذرت خواہ ہیں۔"یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کنگ چارلس اور ملکہ کومیلا شمالی آئرلینڈ کے دورے پر تھے اور مختلف تقریبات میں شرکت کر رہے تھے۔یاد رہے کہ ریڈیو کیرولائن 1964 میں بی بی سی کی اجارہ داری کے خلاف قائم کیا گیا تھا اور یہ کئی برسوں سے سمندر میں موجود جہازوں سے نشریات نشر کرتا رہا ہے۔ اس واقعے نے یقیناً برطانیہ میں خبر رسانی کے نظام کی حساسیت اور نظام کی خرابی کے ممکنہ اثرات کو اجاگر کیا ہے۔