پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی پالیسیوں پر مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں۔
وفد نے 13 سے 20 مئی تک پاکستان کا دورہ کیا، جس میں بجٹ، ٹیکس اصلاحات اور مالی نظم و ضبط پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔پاکستان نے مالی سال 2027 کے لیے 2 فیصد پرائمری سرپلس ہدف برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور زیادہ شعبوں کو ٹیکس دائرہ میں لانے پر زور دیا۔حکومتی اخراجات میں کمی اور معاشی اصلاحات کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔اسٹیٹ بینک کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے اور روپے کی قدر میں لچکدار پالیسی اپنانے کی ہدایت دی گئی۔آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فیصد اضافہ کی تجویز دی، جس کا موجودہ ہدف 108.17 روپے فی لیٹر ہے۔خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز دی گئی۔
صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، اور وفاق کو تقریباً 2 ٹریلین روپے سرپلس دینے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔دسمبر 2026 تک ایف بی آر کا ہدف 7022 ارب روپے مقرر ہے۔پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 21.2 ارب ڈالر ہے۔نئے ٹیکس اقدامات کے تحت 430 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔معاشی شرح نمو کا اندازہ 3.5 فیصد اور اوسط مہنگائی 8.4 فیصد ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 14,500 سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے پر عارضی اتفاق ہوا، جس میں 5500 روپے کا اضافہ شامل ہے۔
یہ مذاکرات پاکستان کی معاشی اصلاحات اور بجٹ کی تشکیل میں اہم سنگ میل ہیں۔