ویب ڈیسک: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ مشاورت کے سلسلے میں ورچوئل مذاکرات کا آغاز آج ہوگا، جس میں گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے سمیت اہم اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مذاکرات سے قبل گیس سیکٹر کی کمپنیوں کا مکمل ڈیٹا طلب کر لیا ہے تاکہ گردشی قرضوں کی اصل صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
گردشی قرضہ 2800 ارب روپے سے تجاوز کر گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ 2800 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔پیٹرولیم ڈویژن مذاکرات میں گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے ایک پلان پیش کرے گا، جس میں ڈیوڈنڈز (dividends) کو استعمال میں لانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
گیس کمپنیوں کی کارکردگی آئی ایم ایف کے سامنے پیش کی جائے گی
آئی ایم ایف کو:
گیس کمپنیوں کی گزشتہ 5 سال کی مالی کارکردگی
منافع و نقصان کی تفصیلات
اور بیلنس شیٹس
پیش کی جائیں گی، تاکہ شعبے کی مالی حالت کا حقیقی اندازہ لگایا جا سکے۔
حکومت کا گردشی قرضہ ختم کرنے کا 5 سالہ منصوبہ
حکومت کی جانب سے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کو آئندہ 5 برسوں میں ختم کرنے کا مکمل روڈمیپ بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو شفافیت اور مستقل مزاجی سے نافذ کیا جائے تو گیس سیکٹر کا مالی بحران کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔