برآمدی ترسیلات کی بندش سے 500 ملین ڈالر نقصان، حکومت سخت ایکشن پلان بنائے: ابراہیم حسن مراد

برآمدی ترسیلات کی بندش سے 500 ملین ڈالر نقصان، حکومت سخت ایکشن پلان بنائے: ابراہیم حسن مراد

لاہور (ویب ڈیسک):سابق صوبائی وزیر ابراہیم حسن مراد نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث برآمدی ترسیلات کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر سخت ایکشن پلان مرتب کرے تاکہ معاشی نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

انہوں نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ احتجاج کے نتیجے میں 30 ہزار ٹرکوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی، جس کے باعث پاکستان کو 500 ملین ڈالر کا براہ راست برآمدی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

قانونی اقدامات ناگزیر:
ابراہیم حسن مراد نے زور دیا کہ:برآمدی سامان یا گاڑیوں کو روکنے پر قید، جرمانے اور ہرجانے کی قانونی سزائیں دی جائیں۔وفاقی اور صوبائی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔
ترسیل میں رکاوٹ، صنعتی بحران کی شکل اختیار کر گئی:
سابق وزیر کے مطابق:ترسیلات کی بندش سے کارخانے بند ہو گئے ہیں۔90 ہزار سے زائد مزدور متاثر ہوئے ہیں۔غیر ملکی آرڈرز منسوخ ہو رہے ہیں، جو ملک کی معیشت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن شاہراہوں کی بندش ناقابلِ قبول اور ملکی مفاد کے خلاف ہے۔
CPEC راہداری اور دیگر برآمدات متاثر:
ابراہیم حسن مراد نے مزید بتایا کہ:سندھ، گلگت اور کراچی میں جاری بندش نے CPEC راہداری کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔روزانہ 20 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
ٹیکسٹائل، چاول، پھل، اور سمندری خوراک سمیت دیگر اہم برآمدی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔اس صورتحال کے نتیجے میں غیر ملکی آرڈرز بھارت اور بنگلہ دیش جیسے حریف ممالک کو منتقل ہونے لگے ہیں، جو پاکستان کے لیے تشویشناک اقتصادی دھچکا ہے۔
 "قومی معیشت کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے"
ابراہیم حسن مراد نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ملک کی قومی معیشت کا تحفظ ہر حکومت، ادارے اور شہری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور ترسیلات کو بند کر کے ملکی ترقی کو روکنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔