بھارت: 23 سالہ خاتون نے سات ماہ میں 25 شادیاں کر کے مردوں کو لوٹا، پولیس نے ’لوٹ اینڈ اسکوٹ دلہن‘ کو گرفتار کرلیا
بھارت کی ریاست بھوپال میں ایک فلمی طرز کا حیران کن واقعہ منظر عام پر آیا ہے، جہاں 23 سالہ انورادھا پاسوان نامی خاتون نے صرف سات ماہ میں 25 مردوں سے شادی کر کے انہیں مالی طور پر لوٹنے کا دھوکہ دیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک متاثرہ شخص کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس خاتون کو گرفتار کر لیا۔
لوٹ مار کے لیے شادی، محبت صرف بہانہ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انورادھا کا تعلق ریاست اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج سے ہے، جہاں وہ ایک اسپتال میں ملازمہ تھی۔ گھریلو تنازعے کے بعد اس نے شہر چھوڑا اور بھوپال آ کر شادی کے ذریعے لوٹ مار کرنے والے گروہ کا حصہ بن گئی۔ یہ گروہ شادی کرانے والے ایجنٹس کے ذریعے کام کرتا تھا، جو واٹس ایپ پر دلہنوں کی تصاویر شیئر کر کے مردوں کو آمادہ کرتے اور ہر شادی کے بدلے 2 سے 5 لاکھ روپے تک وصول کرتے۔
شادی، دھوکہ اور فرار – طریقہ واردات
پولیس کے مطابق انورادھا مختلف ریاستوں میں گھوم گھوم کر مردوں سے شادی کرتی، ان کا اعتماد حاصل کرتی، اور پھر قیمتی زیورات، نقدی اور دیگر اشیاء چرا کر راتوں رات فرار ہو جاتی۔ وہ قانونی دستاویزات تیار کرواتی تاکہ نکاح بظاہر جائز اور قانونی لگے۔
شکایت پر بھانڈا پھوٹا
یہ دھوکہ دہی اس وقت منظر عام پر آئی جب راجستھان کے ضلع سوئی مادھوپور سے تعلق رکھنے والے وشنو شرما نے پولیس کو شکایت دی۔ وشنو کے مطابق ایک ایجنٹ نے دو لاکھ روپے لے کر اپریل میں انورادھا سے کورٹ میرج کروائی، لیکن صرف بارہ دن بعد وہ سارا قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ بھوپال میں ایک اور شخص سے شادی کر چکی ہے۔
گروہ میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ انورادھا کی طرح اور بھی دلہنیں فراڈ کے لیے استعمال ہو رہی تھیں، اور اس میں ملوث گروہ ملک بھر میں سرگرم تھا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید ملزمان اور متاثرہ افراد سامنے آئیں گے۔
سوشل میڈیا پر نئی بحث
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر شدید توجہ حاصل کر چکا ہے، جہاں لوگ آن لائن شادیوں کے خطرات اور ایجنٹس کے کردار پر بحث کر رہے ہیں۔ صارفین نے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے فراڈی گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔