سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
ان مراکزمیں مختلف اقسام کے میزائل اپنے نشانہ پرپروازکرنے کے منتظرہیں،ان میزائل میں خیبرشکن، قدر،سجیل،ایماد،حاج قاسم،پوہ جیسے بیلسٹک اورکروز میزائل رکھے گئے ہیں ۔جنوبی ساحلی علاقوں میں زیرِزمین بحری میزائل اڈے بھی تعمیرکیے گئے،جن میں گھدر380جیساکم رینج اینٹی وارشپ سسٹم میزائل بھی شامل ہیں۔ پاسدرانِ انقلاب کی اعلی کمان کی حکمتِ عملی کے مطابق ان اڈوں پرموجودمیزائل کبھی بھی توازنِ قوت کوتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان میزائلوں کو چلانے کیلئے کسی حکم کے منتظرافرادکاکہناہے کہ ان اڈوں پرموجودمیزائل دشمن کی سرزمین پر’’وولکین‘‘ کی طرح ایک لمحے میں پھٹ سکتے ہیں جویقینا اضافی فائرپاورمیں توازن کیلئے ضروری ہیں۔یادرہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے جنگ سے قبل ہی یہ اعلان کہ یہ نیٹ ورک امریکاواسرائیل سمیت دشمنوں کے احتساب کیلئے تیارہے ۔
ایران کامیزائل نیٹ ورک نہ صرف عسکری قوت کامظہرہے بلکہ خطے میں ایک سیاسی توازن کی دعوت بھی ہے،جہاں زیرِ زمین صلاحیت کسی بھی وقت’’آتش فشاں‘‘کی طرح پھٹ سکتی ہے۔اسرائیل کی طرف سے موسادنیٹ ورک کی موجودگی کادعوی، اورایرانی گرفتاریوں کاسلسلہ نہ صرف خفیہ جنگ کی پیچیدگیوں کوظاہرکرتاہے بلکہ یہ بتاتاہے کہ ہرفریق نے اس تصادم کو شطرنج کے کھیل کے طورپردیکھاہے۔اسٹیج پرموجودعام شہری بھی،جوان خفیہ نیٹ ورکس اورزیرِزمین سوراخ کی گتھیاں نہیں سمجھ سکتے،وہ وقتِ کارروائی پرریاست کے طاقتورہتھیاربن جاتے ہیںایک ایسی سیاسی حقیقت جسے چھپایانہیں جاسکتا۔
ایران کے لب ولہجے میں ایک مظلوم کی جارحیت اورانقلابی شان کی آمیزش پائی جاتی ہے۔جب تہران سے کہاجاتاہے کہ ہم نے صبرکادامن پکڑرکھاتھا،مگراب ہمارے ہاتھ میں شمشیرِحق ہے،گویالہوکی زبان میں جوہری ایقان ہی ایران کا مؤقف ہے تویہ محض عسکری اعلان نہیں بلکہ ولایتِ فقیہ کی عقیدت آمیزجہت ہے۔پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے
آنے والے بیانات کی گونج یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم نے ان پہاڑوں کوچیرکرراہ نکالی ہے،جن میں کبھی صرف خاموشی بسی تھی۔یہ صرف میزائل بیسزکی انجینئرنگ نہیں بلکہ مزاحمت کی تہذیب کااظہارہے۔ایران کی ہردھمکی،ہردعویٰ گویاحسینی کربلاکاجدیداظہارہے جہاں ظلم کے خلاف جنگ،ایک دینی فریضہ ہے،اسی لئے جوہری ٹیکنالوجی،ایک عرفانی معراج کادرجہ اختیارکرچکی ہے۔
اب سوال اٹھتاہے کہ ایران یہ صلاحیت کہاں سے لایا؟خیبرشکن میزائل،جس کی تباہ کن صلاحیت کاچرچاہے،وہ تین مرحلوں میں پھٹنے والامہلک ہتھیارہے۔اس کے اثرات تل ابیب کے قلب میں محسوس کیے گئے،اوریہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔کہاجارہاہے کہ ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کارازنہ فقط ریورس انجینئرنگ میں ہے بلکہ ان خفیہ تجربات میں بھی ہے جوسنگلاخ پہاڑوں کے نیچے سرنگوں میں انجام دیے گئے۔پاسدارانِ انقلاب نے کئی باردعوی کیاہے کہ ان کے پاس ایسے خفیہ میزائل اڈے موجودہیں جودنیاکی نظروں سے اوجھل ہیں،لیکن اپنے وارمیں بجلی کی سی تیزی رکھتے ہیں۔
تل ابیب کی زبان میں ایک خوفزدہ خوداعتمادی بولتی ہے۔جب اسرائیلی حکمران اورفوجی سربراہ بڑے تفاخرکے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی پشت میں خنجرماراہے اوروہ بھی ان کی سرزمین سے،تویہ بات جاسوسی کی صہیونی مکاری اوردھوکہ دہی روایات کافخرہے۔موساد کادعویٰ کہ ایران کے اندرنیٹ ورک موجودہیں،نہ صرف خطے کے ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ یہ سائبر،نفسیاتی اوراسٹرٹیجک جنگ کاایساپہلوہے جومیدانِ جنگ سے زیادہ دماغی میزپرکھیلاجاتاہے۔اسرائیلی مؤقف،اپنے وجودکوبچانے کی آڑمیں خطے میں اجارہ داری کے جال کوبھی فروغ دیتاہے۔یہ وجودی خوف اوروسعتِ قبضہ کے درمیان ایک باریک مگرگہراتضادہے اورخودکو بچانے کی جنگ کی آڑمیں ساری دنیاپر اپنے تسلط کا سفر ہے جوگریٹراسرائیل کی شکل میں ان کاخواب ہے۔
اسرائیل نے13جون2025میں پہلی مرتبہ اعتراف کیاکہ اس نے ایران کے اندرموسادکا’’کلینڈسٹائن ڈرون بیس‘‘قائم کیا،ڈرونزکے ذریعے میزائل لانچرز،ایئرڈیفنس اثاثے نقصان پہنچائے،اورفضائی حملوں کی راہ ہموارکی۔جون کوکیے گئے فضائی حملوں میں یہ اڈابنیادی کھلاڑی سمجھاجاتاہے ۔یادرہے کہ 31جولائی2024کو موساد نے اپنے اسی نیٹ ورک کے توسط سے اسمعیل ہنیہ کوتہران میں شہیدکیاتھا،جہاں وہ ایران کے نومنتخب صدرمسعودپیزشکیان کی حلف برداری میں شریک تھیاوربعدازاں حماس کے دیگر قائدین کوبھی ختم کرنے کی ذمہ داری بھی موسادسے منسوب کرتے ہوئے حماس اورایرانی اعلی عہدیداروں کوشہیدکرنے کادعویٰ کیاہے جبکہ ایران نے اس کے بعد24افراد(جن میں اعلیٰ افسران شامل تھے)کوگرفتارکرتے ہوئے بیس کوناکام کرنے کا دعوی کیاتھا۔بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں کئی انڈین افرادبھی گرفتارکئے گئے تھے جبکہ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک مرتبہ پھر موسادکے مبینہ نیٹ ورک کے70+بھارتی شہریت رکھنے والے افرادکوگرفتارکیاہے۔یہ الزام ایرانی میڈیااورپاسدارانِ انقلاب کی طرف سے سامنے ایاہے جس پرابھی تک اسرائیل اوربھارت کی طرف سے مکمل خاموشی اس بات کامظہرہے کہ ہنودویہودکایہ مشترکہ پلان پاکستان کے ان تمام خدشات کی کھلی تصدیق ہے جس کے بارے میںپاکستان نے مضبوط شواہد کے ساتھ ایران کو مطلع کیاتھالیکن ایران نے اس وقت کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کاخمیازہ اب انہوں نے بھگتاہے۔
دوسری جانب امریکاایک تماشائی کے روپ میں،فقط خبردارکررہاہے۔صدرٹرمپ نے واضح کیاہے کہ وہ اس جنگ کاحصہ نہیں، مگراگرایران نے امریکاپرحملہ کیاتووہ ایسی ضرب لگائیں گے کہ دنیانے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔یوں توٹرمپ کایہ مؤقف کہ ایران پرحالیہ اسرائیلی حملے میں امریکی تائیدشامل نہیں لیکن اب تک ایران کودہمکی آمیزاندازمیں ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کیلئے معاہدہ کرنے پرمجبورکرنے کے بیانات اسرائیل کابرملاساتھ نہیں تواورکیاہیں؟
ٹرمپ نے واضح اورموثراندازمیں ایران کودہمکی دی ہے کہ’’اگرہم پرایران کی طرف سے کسی بھی طرح،یاکسی بھی شکل میں حملہ کیاگیاتوامریکی مسلح افواج کی پوری طاقت سے ایساجواب دیں گے کہ جوتاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی‘‘۔یہ بیان نہ صرف امریکی مداخلت کااعلان ہے بلکہ اس سے خطے کے تمام فریقین کویہ پیغام جاتاہے کہ امریکافی الحال سیاہ رخ سے سامنے نہیں آیا۔اگرچہ ٹرمپ نے ظاہراًاعلان کیاکہ ہم اس تنازع میں شامل نہیں مگرتاریخ کاورق بتاتاہے کہ امریکاکبھی بھی محض تماشائی نہیں رہا۔ان کے دہمکی آمیزبیانات کے بعددھندمیں چھپے ہوئے ہاتھ نمایاں ہوگئے ہیں۔’’گویاقلم ہاتھ میں نہیں، مگرانگلی بندوق کی لبلبی پرہے‘‘۔امریکی مؤقف بیک وقت ثالثی کالبادہ اورگلوبل جارحیت کاسایہ ہے۔تاہم حیرانی کی بات نہیں۔یہی دورخارویہ،امریکی اسٹرٹیجی کی روح ہے۔ہمیشہ سے یہ دیکھنے میں آیاہے کہ جہاں امن کانعرہ امریکابہادربلند کرے،وہاں جنگ کی تیاری کاپردہ پوش ہوتاہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات اب تک کے ایک طاقتور ترین فردکی کھلی دہمکی کے سوااورکچھ نہیں کیونکہ یہ الفاظ صرف عسکری و سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک عالمی دھماکے کی پیشین گوئی ہیں جس کاساراامکان امریکی فوج کی وسائل کی مکمل بربادی پرمشتمل ہے۔اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کی دہمکی کے ساتھ ہی ڈیل کی پیشکش سفارتی توازن برقراررکھنے کی بھی ایک اوچھی کوشش ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفاظی نہ صرف طاقت کے استعمال کارخ کھولتی ہے بلکہ سفارتی راستے کی جانب کھلے دروازہ کی بھی نشاندہی کرتی ہے لیکن یہ کھلادروازہ بھی
اس بات کی دلیل ہے کہ کل کلاں اگراسرائیل کمزورپڑجائے اوراسے اپنی سلامتی کیلئے امریکاکی طرف فریادکناں ہوکرجاناپڑے توامریکااپنے اتحادیوں کے توسط سے ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کامعاہدہ کرواسکے جس کاآج انہوں نے ایک مرتبہ پھرپاک وہندکی جنگ بندی کاحوالہ دیتے ہوئے اعلان کیاہے۔
لیکن یادرہے کہ ٹرمپ کادولکیروں کے درمیان محیط بیان جہاں عدم مداخلت کااظہارہے لیکن وہی پرلامتناہی طاقت کے ساتھ حملے کی دہمکی ایران کوواضح اندازمیں ایک انتہائی سنجیدہ چیلنج سے کم نہیں بلکہ خطرے کی وہ گھنٹی ہے جوکبھی جاپان کی تباہی کاموجب بنی تھی۔ٹرمپ کایہ اندازِخطاب امریکی صدورکاعمومی اعلیٰ دھمکی کایہ ویساہی طرزِبیان کی شکن پہ فٹ بیٹھتاہے جیسے ریگن کاریڈلرزکوناکام بنانے کی دہمکی کے بعدسامنے آیاتھا۔کیونکہ جب صدرطاقت کاایک وعدہ ناکہ کش اور اسی وقت مصالحہ جاتی راستے کاذکر کریں،تویہ ایک شطرنجی پوزیشن کی مانندہے جہاں ہرچال کے پیچھے عالمی مفادات اور عسکری حساب کتاب ہوتاہے۔(جاری ہے)