دھواں،دہمکی،اوردھماکہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
جب افقِ تہران پرشب کی سیاہی گہری ہونے لگی،اورفضامیں معلق اذانِ مغرب کی بازگشت ابھی تھمی نہ تھی،اسی لمحے آسمان نے آتش فشاں کی صورت ایک نئی قیامت برپاہوتے دیکھی۔اسرائیلی جارحیت نے ایران کی فضاں میں وہ آتش برسادی جس کی چنگاریاں صرف بارودنہیں،بلکہ ایک نئے عالمی بحران کااستعارہ ہیں۔ان حملوں کانشانہ فقط اینٹ وپتھر کی عمارات نہ تھیں،بلکہ وہ نظریے،وہ خواب اوروہ امیدیں تھیں جنہیں ایران برسوں سے اپنی جوہری پیش رفت کی صورت پروان چڑھارہاتھا۔اسرائیل نے تہران اوراس کے گرد ونواح میں کئی مقامات پرتباہ کن فضائی حملوں میں ایران کاجوہری پروگرام،وزارتِ دفاع کے دفاتر،تحقیقاتی تنصیبات،دیگرحساس عسکری تنصیبات اورتہران کافیول ذخیرہ،سبھی ایک جھلسادینے والے خواب کی مانندراکھ میں بدلنے کا دعویٰ کیاہے۔
ان حملوں کامقصدبظاہرایران کی جوہری استعدادکومحدودکرناتھالیکن درحقیقت یہ حملہ ایک بڑے سیاسی داکااظہارتھا،جس کی تہہ میں اسرائیل کی خفیہ حکمتِ عملی اورریجیم چینج کی مہم نظر آتی ہے۔ان حملوں میں ایران کی مسلح افواج کے سربراہ سمیت کئی اعلی عسکری افسران جاں بحق ہوئے،جن کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی عسکری وسیاسی فضاپر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔نیزان حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری قیادت میں ایسی شخصیات لقمہ اجل بنیں،جن کے نام فقط رینک اور وردی نہیں،بلکہ قوم کی عسکری خود داری کااستعارہ تھے۔آذربائیجان صوبہ،جوکل تک باغوں اورپہاڑوں کی کہانی سناتاتھا،آج وہاں کی فضائیں ماتم کناں ہیں۔اکتیس لاشیں،جن میں تیس فوجی اورایک ریڈکراس کارضاکاربھی شامل۔یہ صرف اعدادنہیں،بلکہ انسانی المیے کے نوحے ہیں جنہیں تاریخ رقم کررہی ہے۔
ایران نے بھی خاموشی اختیارنہ کی۔جس طرح دجلہ وفرات کی گہرائیوں سے ابوالانواراٹھاکرتے تھے،ویسے ہی تہران کے عسکری اذہان نے صبروحکمت کی بجائے قوتِ بازوکوزبان دی۔ایک سوسے زائدمیزائل تل ابیب،حیفااوروسطی اسرائیل کی زمین پرگویاقیامت کی گھنٹیوں کی مانندبرسے۔حیفاکی آئل ریفائنری میں شعلوں کی وہ زبانیں بلندہوئیں،جنہیں فقط کیمرے ہی نہیں،وقت کی آنکھ نے بھی محفوظ کرلیا۔ایران نے نہایت شدید اوربروقت ردِعمل دیا۔سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق،ایران نے100سے زائد بیلسٹک اورکروز میزائل تل ابیب، حیفااوروسطی اسرائیل پرداغے۔حیفاکی آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ کی ویڈیو عالمی میڈیانے تصدیق شدہ قراردی،جس سے حملے کی شدت اورایران کی عسکری مہارت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔ایران کے دعوے کے مطابق اسرائیلی حملے میں شہران کے آئل ڈپو اورتہران کے فیول ٹینکس بھی نشانہ بنے،مگروزارتِ تیل کااصرارہے کہ صورتحال قابومیں ہے۔
اس جوابی حملے میں اسرائیل میں کم ازکم دس افرادکی ہلاکت اورسوسے زائدافرادکے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔اسرائیل میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ تنصیبات کوبھی شدید نقصان پہنچا۔یہاں محض گنتی نہیں بلکہ وہ زخم ہیں جوایک قوم کی نفسیات پراپنے انمٹ نقوش چھوڑجاتے ہیں۔اسرائیلی معاشرہ صدمے کی اس کیفیت میں مبتلاہے،جہاں نیندایک مجرم بن جاتی ہے اورسکون فقط خوابوں کی بات ہوجاتاہے۔نیتن یاہو،جوماضی میں آہن کی طرح مضبوط دکھائی دیتاتھا،اب پردیس سے حالات کاکنٹرول سنبھالنے اوروہاں سے جنگی صورتحال کوکنٹرول کرنے کی کوشش کررہاہے۔یقیناامریکاکی طرف سے مہیاکیاجانے والاآئرن ڈوم بھی اشک بار اورتھرتھرکانپ رہاہے کہ اس کے ناقابل تسخیرہونے کے سب دعوے پرزے ہوگئے۔ 
اقوام متحدہ میں ایرانی سفیرنے اسرائیلی حملوں میں78افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی،جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔خاص طورپرآذربائیجان صوبے میں31ہلاکتیں ہوئیں،جن میں30فوجی اورایک ریڈ کراس اہلکارشامل ہیں۔اس سارے تناظرمیں اسرائیلی افواج نے ایرانی عوام کوخبردارکیاکہ وہ فوجی تنصیبات اوران کے اطراف سے دور رہیں۔گویااب جنگ صرف افواج کے مابین نہیں بلکہ شہری علاقوں میں پھیلنے کوہے۔اسرائیلی حملوں کاحتمی مقصد ابھی تک غیرواضح ہے،لیکن مبصرین کے مطابق یہ ایران میں ریجیم چینج کی ایک کوشش ہوسکتی ہے ایک ایساجواجوپورے خطے کولپیٹ میں لے سکتاہے۔ادھرحوثی تحریک نے دعویٰ کیاہے کہ اسرائیل پرحملہ ایران سے مکمل مشاورت کے بعدکیاگیا ۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ خطے کی متعددقوتیں اس کشیدگی میں فریق بن چکی ہیں،اوریہ محض ایران واسرائیل کی جنگ نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کامسئلہ بن چکاہے۔
اسرائیلی حملے ایک نئے باب کاآغازہیں یااختتام؟یہ سوال ہنوزجواب طلب ہے۔اسرائیل کاکہناہے کہ حملہ ایران کے اندرسے کیاگیا، جہاں موسادکانیٹ ورک نہ صرف موجود ہے بلکہ فعال بھی ہے۔اس نے ایران پراندرونِ ملک موجودموسادنیٹ ورک کی مدد سے حملے کیے۔اسی نیٹ ورک کی مددسے اسرائیل پہلے بھی اسماعیل ہنیہ اوردیگرفلسطینی قائدین کوقتل کرچکاہے۔ایران نے متعدد بھارتی شہریوں سمیت 73افرادکوگرفتارکیاہے جن کاتعلق مبینہ طورپراسی نیٹ ورک سے ہے۔یوں ایران وبھارت،اوربالواسطہ پاکستان کے درمیان ایک نئے زاویے سے کشیدگی کی لہرچل پڑی ہے۔
یہاں پاکستان کاذکربے محل اوردلچسپی سے خالی نہیں ہوگاکہ پاکستان ماضی میں بارہاایران سے یہ شکایت کی ہے کہ انڈین راکے ایجنٹس بلوچستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی را،ایرانی سرزمین کواستعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ میں بھی ٹی ٹی پی کودہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے اورکلبھوشن کی گرفتاری اس حقیقت کا ناقابلِ انکارثبوت ہے۔ ساتھ ہی ایران پریہ الزامات بھی گردش کرتے رہے ہیں کہ اس نے طالبان کوہندوستانی سفارت کاری سے جوڑنے کی سہولت دی، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں تیزکردیں۔تاہم حالیہ سہ فریقی اجلاس پاکستان،چین، افغانستان کے بعدملااخوندنے جوفتویٰ جاری کیاہے،وہ بظاہردہشتگردوں کیلئے ایک انتباہ ہے،اورپاکستان کی امیدوں کاچراغ۔تاہم چین،افغانستان اورپاکستان کے درمیان حالیہ سہ فریقی اجلاس میں ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔افغانستان کے امیرملا اخوندنے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث افرادکوسخت سزائیں دی جائیں گی۔یہ اعلان پاکستان کی سلامتی کیلئے نیک شگون ہے۔
ایران کے میزائل پروگرام پرعالمی پابندیوں کے باوجوداس کی ترقی حیران کن ہے۔’’4سوسیکنڈمیں تل ابیب‘‘کے دعوے کے ساتھ ہائپرسونک میزائلوں کی تیاری کاانکشاف دنیا کیلئے ایک دھچکاہے۔ریورس انجینئرنگ کے ذریعے ایران نے جوکامیابیاں حاصل کی ہیں،وہ جدیدٹیکنالوجی کی دنیامیں ایک انوکھاتجربہ ہیں۔ایران کایہ دعویٰ کہ اس نے امریکی ایف35طیارہ گرایاہے اور اسرائیلی خاتون  پائلٹ بھی ان کی حراست میں ہے،کئی حلقوں میں حیرت وخوف کاباعث بنا،اورساتھ ہی افواہوں کابازاربھی گرم ہواکہ ایران کویہ ٹیکنالوجی کسی پڑوسی ملک سے ملی ہے۔
خیبر شکن میزائل کی ہلاکت خیزی پربھی توجہ دی گئی ہے۔کہاجاتاہے کہ یہ میزائل تین مراحل میں پھٹتاہے اوراپنے ہدف کومکمل طورپرتباہ کردیتاہے۔اسرائیلی علاقوں میں اس کے اثرات شدت سے محسوس کیے گئے ہیں۔ایران اگرچہ اپنے میزائل پروگرام کو دنیاکے سامنے فخرسے پیش کرتاہے،لیکن ان کی اصل نوعیت،قوت اوراہداف خفیہ رکھے جاتے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کادعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے میزائل اڈے ہیں جوسنگلاخ پہاڑوں کے اندرسرنگوں کی صورت میں تعمیرکیے گئے ہیں،اوروہاں خصوصی انجینئرنگ اورڈرلنگ کے ذریعے ہتھیارذخیرہ کیے گئے ہیں۔ان خفیہ اڈوں کی تفصیلات اگرچہ منظرِ عام پرنہیں آئیں،تاہم ان کی موجودگی ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایک کلیدی کرداراداکرتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ مہینوں میں متعددزیرِزمین میزائل سٹورزیا’’میزائل سٹی‘‘کااعتراف کرتے ہوئے متنبہ کیاہے کہ انہوں نے یہ میزائل تمام صوبوں میں منقطع اندازمیں قائم کررکھے ہیں اورضرورت کے مطابق ان کا استعمال جاری رے گا۔ان میں سے کچھ خاص مراکزمثلاخرم آباد، کرمان شاہ،ہاجی آباد،قم وغیرہ،500میٹرسے کہیں زیادہ انڈر گراؤنڈ ہیں،جہاں ریل پرنصب خودکار’’میزائل شاورسسٹم‘‘کے ذریعے5 ایمادمیزائل یکجااورتیزی سے فائرکیے جاسکتے ہیں۔ ایران نے ڈرلنگ اورسرنگوں کاایک ایساخفیہ اور محفوظ جال بنارکھاہے جہاں ان مستندمراکزمیں ہزاروں میٹرگہرائی میں پیچیدہ سرنگیں اورریل ٹریکس،ٹرانسپورٹرایریٹرلانچرٹرکوں کیلئے کیلئے مخصوص ہیں۔
اسرائیل نے حالیہ حملوں میں یہ دعویٰ کیاہے کہ اس نے کرمان شاہ اور تبرِیزجیسے مغربی بیسزکومخصوص اہداف کیلئے نشانہ بنایا گیا،حالیہ طیارہ وارحملوں کے نتیجے میں کئی جگہوں پرنقصان پہنچانے کادعویٰ بھی کیالیکن ابھی تک کسی آزادذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی تاہم ایران ابھی جوابی حملے انہی بیسزسے ہی کررہاہے جس کی بناپرعالمی دفاعی تجزیہ نگاراس بات کا دعویٰ کررہے ہیں کہ میزائل کے یہ خفیہ اڈے کبھی بھی اس خطے میں حیران کن نتائج لاسکتے ہیں۔ (جاری ہے)