ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر شدت آ گئی ہے، اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔
تازہ تفصیلات:
ایرانی حملہ:
ایران کے "خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر" کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی شہروں پر تازہ میزائل حملے کیے گئے ہیں۔
حملوں کا نشانہ:
فوجی مراکز
دو فضائی اڈے
دفاعی صنعتوں کے مراکز
کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے "حیرت انگیز اور فیصلہ کن حملے" اسرائیل کو "گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے"۔
اسرائیلی ردعمل:
اسرائیلی میڈیا کے مطابق:
تل ابیب میں زوردار دھماکے سنے گئے۔
وسطی اسرائیل کے علاقے ڈین گش میں بھی میزائل گرے، جن کے نتیجے میں:
ایک رہائشی عمارت کو آگ لگ گئی۔
ابتدائی طور پر جانی نقصان کی اطلاعات نہیں دی گئیں۔
اسرائیلی فضائیہ نے ردعمل میں:
وسطی ایران میں میزائل ذخائر اور لانچنگ انفراسٹرکچر پر جوابی حملے کیے۔
امریکی ردعمل کی تنبیہ:
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ:
"اگر امریکا نے اسرائیل کی مدد کی تو پورے خطے میں اس کے فوجی اڈے بھی نشانے پر آ جائیں گے۔"
تجزیہ:
یہ تازہ حملے خطے میں ممکنہ طور پر ایک بڑے تنازع کو جنم دے سکتے ہیں، خصوصاً اگر امریکہ یا دیگر عالمی طاقتیں اس میں شامل ہو جائیں۔ ایران کی جانب سے براہِ راست اسرائیل پر حملوں کا تسلسل غیر معمولی نوعیت رکھتا ہے، جو ماضی میں زیادہ تر پراکسی گروپوں کے ذریعے کارروائیوں تک محدود تھا۔