لائٹس کی مرمت سست روی کا شکار، نیسپاک نے درآمد شدہ نمونہ جات مسترد کر دیئے،چھ زونز میں کروڑوں کے فنڈز موجود، مگر سٹریٹ لائٹس کی بحالی تاخیر کا شکار
لاہور (زیڈ این این)باغوں کا شہر لاہور ان دنوں اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، جہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائد سٹریٹ لائٹس بند پڑی ہیں اور ان کی بحالی کا عمل مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شہر کی 2 لاکھ 72 ہزار سٹریٹ لائٹس کی مرمت اور بحالی کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جس کے پہلے مرحلے میں 1 لاکھ 50 ہزار بند پوائنٹس کی خریداری اور مرمت شامل تھی، تاہم یہ مرحلہ بھی سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔نجی کمپنی کی جانب سے دبئی سے سٹریٹ لائٹس کی ایک بڑی کھیپ منگوائی گئی لیکن نیسپاک نے ان کے نمونہ جات کو معیار پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔ اب دوبارہ منظوری کے لیے نئے نمونے نیسپاک کو بھجوائے گئے ہیں۔حکام کے مطابق کمپنی کے ساتھ پانچ سالہ مینٹی ننس معاہدہ بھی کیا گیا ہے لیکن اب تک عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔مالی تخمینوں کے مطابق نشتر اور گلبرگ زونز کیلئے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے،راوی اور سمن آباد زونز کیلئے 14 کروڑ 27 لاکھ روپے،داتا زون کیلئے 15 کروڑ 96 لاکھ روپے،شالامار زون کیلئے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔شہری حلقوں نے اندھیروں میں ڈوبی سڑکوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد سٹریٹ لائٹس کی بحالی یقینی بنائی جائے تاکہ جرائم اور حادثات کا خطرہ کم ہو سکے اور شہر کی رونقیں بحال ہو سکیں۔