2019 تک شہر کا تقریباً چالیس فیصد رقبہ تعمیرات کی نذر، ماحولیاتی مسائل شدت اختیار کرنے لگے
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) باغوں کا شہر لاہور تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہونے لگا ہے، جہاں سبز علاقوں میں خطرناک حد تک کمی، درختوں کی تعداد گھٹنے اور قدرتی ماحول متاثر ہونے کے باعث درجہ حرارت، فضائی آلودگی اور شہری مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ پرندوں کی اقسام بھی کم ہوتی جارہی ہیں۔ لارنس گارڈن، شالامار باغ، جیلانی پارک اور گلشن اقبال جیسے سرسبز مقامات لاہور کی پہچان ہیں، تاہم شہری پھیلاو? کے باعث شہر کا قدرتی حسن متاثر ہورہا ہے۔ اربن یونٹ کی ایک تحقیق کے مطابق 2007 سے 2015 کے دوران لاہور میں درختوں کی تعداد میں 72 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2019 تک شہر کا تقریباً 40 فیصد رقبہ تعمیرات کی نذر ہوچکا تھا اور اب صورت حال مزید گھمبیر ہونے لگی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں گھنا سبزہ 35 مربع کلومیٹر سے کم ہوکر 19 مربع کلومیٹر رہ گیا، جبکہ درمیانے درجے کا سبزہ 803 سے گھٹ کر 690 مربع کلومیٹر تک محدود ہوگیا۔ شہر کے مجموعی رقبے میں پارکس کا حصہ صرف 1.4 فیصد ہے، جہاں شجرکاری کے دوران چھوٹے درختوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ فیروزپور روڈ، جی ٹی روڈ، سگیاں بائی پاس اور رائیونڈ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کھیتوں کی جگہ سڑکیں، عمارتیں اور تجارتی مراکز پھیل رہے ہیں، جس سے قدرتی ماحول پر دباو? بڑھ رہا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق ہر ایک ہزار افراد کے لیے 0.9 ہیکٹر گرین اسپیس درکار ہے، تاہم لاہور میں یہ شرح صرف 0.2 ہیکٹر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر کی 65 فیصد آبادی گرین اسپیس سے 400 میٹر سے زیادہ فاصلے پر رہتی ہے، جبکہ 35 فیصد شہری اس سہولت سے محروم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری، موجودہ سبز علاقوں کا تحفظ اور مو?ثر ماحولیاتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے، بصورت دیگر شہر کی سبز پہچان مزید مٹنے اور آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا میں سانس لینا مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔