پاکستان ہاکی کی بحالی کیلئے نئے اقدامات، رواں سال اہم سنگِ میل ثابت ہوگا

پاکستان ہاکی کی بحالی کیلئے نئے اقدامات، رواں سال اہم سنگِ میل ثابت ہوگا

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر محی الدین احمد وانی نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں ہاکی کے کھیل کی بحالی اور ترقی کے حوالے سے اہم ثابت ہو رہا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن مردوں کی ہاکی کے ساتھ ساتھ ویمنز ہاکی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ملک میں کھیل کا ایک مضبوط اور مستقل نظام قائم کیا جا سکے۔محی الدین احمد وانی نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ویمنز ہاکی کی ترقی کیلئے گراس روٹ لیول سے لے کر قومی ٹیم تک ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع، جدید تربیت اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا فیڈریشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ قومی انڈر 21 ویمنز ہاکی چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد کے بعد پاکستان کی جونیئر ویمنز ٹیم نے عمان میں منعقدہ انڈر 21 ٹورنامنٹ میں ملک کی نمائندگی کی، جبکہ قومی کھلاڑی وہاں جاری انڈر 18 چیمپئن شپ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔پی ایچ ایف صدر کے مطابق بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے کھلاڑیوں کو تجربہ حاصل ہوگا اور وہ مستقبل کے بڑے ایونٹس کیلئے بہتر انداز میں تیار ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن جونیئر اور سینئر دونوں ویمنز ٹیموں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

محی الدین احمد وانی نے کہا کہ جدید ہاکی میں کامیابی کیلئے صرف کھیل کی مہارت کافی نہیں بلکہ فٹنس، اسپورٹس سائنس، جدید حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے پی ایچ ایف کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان ویمنز ہاکی ٹیم کیلئے ایک عالمی معیار کے بین الاقوامی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ ہے، جو کھلاڑیوں کو جدید تربیت اور تکنیکی رہنمائی فراہم کرے گا۔پی ایچ ایف صدر کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کا مقصد ایک ایسی مضبوط اور مسابقتی ویمنز ہاکی ٹیم تیار کرنا ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرے اور قومی ہاکی کے شاندار ماضی کو دوبارہ زندہ کرے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل محنت، بہتر منصوبہ بندی اور نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنے سے پاکستان ہاکی ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکے گی۔