شام کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی تھامس بیرک نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کو کسی اقدام پر مجبور نہیں کر سکتا، صرف اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔
بیروت میں پریس کانفرنس کے دوران تھامس بیرک نے واضح کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع پر امریکا فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، تاہم واشنگٹن تل ابیب کو براہِ راست کوئی حکم جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر امریکا شدید تشویش رکھتا ہے اور وہاں جاری بحران کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کو اس کی پالیسیوں اور اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانا ناگزیر ہے۔تھامس بیرک کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لبنان کی سرحد پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور شامی بحران بھی مسلسل عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔