امریکا ممکنہ طور پر ایران-اسرائیل کشیدگی میں شامل ہو سکتا ہے: صدر ٹرمپ

 امریکا ممکنہ طور پر ایران-اسرائیل کشیدگی میں شامل ہو سکتا ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا مستقبل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں براہِ راست شامل ہو سکتا ہے، اگرچہ فی الحال واشنگٹن اس جنگ کا حصہ نہیں۔

  آف کیمرہ گفتگو میں اہم انکشاف:
صدر ٹرمپ نے یہ بات امریکی ٹی وی کی سینئر صحافی ریچل اسکاٹ سے آف دی ریکارڈ گفتگو کے دوران کہی۔ ان کے مطابق:"فی الحال امریکا ایران-اسرائیل جنگ کا حصہ نہیں، لیکن حالات کے پیش نظر ایسا مستقبل میں ممکن ہے۔"
  معاہدے کی امید اور اسرائیل سے وفاداری:
ٹرمپ نے ایران-اسرائیل معاہدے کی امید بھی ظاہر کی:"مجھے یقین ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔"ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ:"امریکا، اسرائیل کے دفاع میں اس کی حمایت جاری رکھے گا اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔"
  عالمی ردعمل اور سفارتی نگاہیں:
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن کا ممکنہ کردار نئی صف بندیاں جنم دے سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق:

یہ بیان امریکا کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسرائیل کی عسکری حمایت کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
  امن کی راہ یا جنگ کی تیاری؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا:

ثالث کا کردار ادا کرتا ہے یا
خطے میں براہِ راست عسکری مداخلت کی طرف بڑھتا ہے؟