بلوچستان میں ایک مرد اور خاتون کے اندوہناک قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شدید ردعمل دیا ہے۔
انہوں نے واقعے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو خود قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کوئٹہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا تھا کہ مقتول مرد اور خاتون نے حال ہی میں شادی کی تھی، تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے درمیان ازدواجی رشتہ نہیں تھا۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ خاتون کے پانچ بچے جبکہ مرد کے بھی پانچ یا چھ بچے تھے۔
"واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے سے پہلے ہی نوٹس لے لیا گیا"
میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ویڈیو وائرل ہونے سے قبل ہی حکومت نے نوٹس لیا اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ ان کے مطابق، "ہم نے ڈی ایس پی کو معطل کر دیا ہے اور جو بھی اس واقعے میں ملوث پایا گیا، اس کو گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔"
"یہ کیس ریاست کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے"
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس واقعے کو ریاست کا ٹیسٹ کیس تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اس معاشرتی بگاڑ کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ غیر قانونی جرگوں کو روکا جائے اور آئینی طریقے سے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔"انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی قتل کا اختیار حاصل نہیں، چاہے وہ کسی بھی نام نہاد روایتی نظام یا قبائلی رسم کے تحت کیوں نہ ہو۔ "ایسے جرگوں کو فروغ نہیں دیا جائے گا، بلکہ روکا جائے گا۔ ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہے۔"
"میں وکٹم بلیمنگ پر یقین نہیں رکھتا"
سرفراز بگٹی نے کہا کہ "میں وکٹم بلیمنگ (یعنی مقتولین کو ہی قصوروار ٹھہرانے) پر یقین نہیں رکھتا۔" انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ "ہم مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔"
ویڈیو اور واقعے کی تفصیلات
واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں نامعلوم مقام پر چند مسلح افراد کو ایک خاتون اور مرد پر اندھا دھند گولیاں برساتے ہوئے دیکھا گیا۔ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق یہ واقعہ غالباً عید الاضحیٰ کے قریب پیش آیا تھا، تاہم اس کی تصدیق ابھی باقی ہے۔