بھارت کے ضلع کَچھ (گجرات) میں ایک افسوسناک واقعے میں سی آر پی ایف اہلکار نے اپنی ساتھی خاتون پولیس افسر کو قتل کر دیا، جس کے بعد ایک بار پھر مودی سرکار کے "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" کے دعووں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق، قتل کی یہ واردات ضلع کَچھ کے انجر علاقے میں پیش آئی جہاں 25 سالہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر ارونا بین نتوبائی کو ان کے ساتھی سی آر پی ایف کانسٹیبل دِلیپ ڈانگچیا نے مبینہ طور پر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔
واقعے کی تفصیلات:
دلیپ ڈانگچیا نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے خود تھانے میں گرفتاری دی۔ارونا بین انجر پولیس اسٹیشن میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر تعینات تھیں۔انجر کے ڈی ایس پی مکیش چوہدری کے مطابق، دونوں کے درمیان معمولی تکرار شدید جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ملزم نے طیش میں آ کر ارونا بین کا گلا دبا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دلیپ کی پوسٹنگ منی پور میں رہی ہے اور وہ 2021 سے ارونا بین سے انسٹاگرام کے ذریعے رابطے میں تھا، جس کے بعد دونوں نے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔
تشویشناک پس منظر:
یہ واقعہ بھارتی معاشرے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور ریاستی اداروں کی خاموشی کو اجاگر کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں:
دہلی میں نربھیا کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل
کولکتہ میں خاتون ڈاکٹر کا اسپتال میں قتل
کشمیر اور منی پور میں فورسز کے مظالم
یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں خواتین کسی بھی جگہ محفوظ نہیں — نہ اسپتال میں، نہ پولیس اسٹیشن میں، نہ سڑک پر، نہ گھر میں۔
سی آر پی ایف اور ذہنی صحت:
ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر اور منی پور جیسے پُرتشدد محاذوں پر طویل تعیناتی نے سی آر پی ایف اہلکاروں کو نفسیاتی طور پر غیر مستحکم اور جذباتی طور پر بے حس بنا دیا ہے۔ یہی اہلکار اب صرف کشمیریوں کے لیے نہیں بلکہ بھارت کی اپنی بیٹیوں کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
مودی حکومت پر تنقید:
"بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" جیسے حکومتی نعرے محض سیاسی دکھاوا ثابت ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں خواتین ہر روز قتل، زیادتی اور تشدد کا شکار ہو رہی ہیں، اور مودی حکومت اس کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدامات نہیں کر رہی۔یوگا، شانتی، اور روحانیت کی دہائیاں دینے والا بھارت، حقیقت میں ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں خواتین کے لیے ہر دن ایک خوفناک امتحان بن چکا ہے۔