ویب ڈیسک: بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جب کہ بی جے پی حکومت پر ان واقعات میں ملوث مجرموں کو سیاسی تحفظ دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے 2024 کے عام انتخابات میں پراچوال ریوانا نامی شخص کو امیدوار نامزد کیا، جس پر 2,960 خواتین کی جنسی ویڈیوز بنانے اور انہیں نشانہ بنانے جیسے سنگین الزامات ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب جون 2024 میں یہ انکشاف ہوا کہ ریوانا جنسی استحصال کا ایک بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:"مودی سرکار جنسی زیادتی کرنے والوں کی محافظ بن چکی ہے، اور بی جے پی ریوانا جیسے مجرموں کو سیاسی تحفظ دے رہی ہے۔"ان کا کہنا تھا کہ پراچوال ریوانا کا بی جے پی سے تعلق اور اس پر عائد الزامات کے باوجود مودی حکومت کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت انصاف کے بجائے سیاسی مصلحتوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
الکا لامبا نے دعویٰ کیا کہ:"بی جے پی، اقتدار میں رہنے کے لیے جنتا دل (سیکولر) جیسی جماعتوں کے سہارے پراچوال ریوانا جیسے جنسی درندوں کو بچا رہی ہے۔"انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی حکومت نے ریوانا کے ملک سے فرار ہونے کے بعد اس کی گرفتاری کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، جو حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔مہیلا کانگریس کی صدر نے کہا کہ:"’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ محض ایک نعرہ بن چکا ہے، حقیقت میں بی جے پی حکومت خواتین کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔"الکا لامبا نے مطالبہ کیا کہ پراچوال ریوانا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مودی سرکار خواتین کے تحفظ کو سیاسی مفادات پر ترجیح دے۔
پس منظر:
ریوانا کا تعلق جنتا دل (سیکولر) سے ہے، جو بی جے پی کی اتحادی جماعت ہے۔ اس کیس نے بھارت میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور مودی حکومت پر انصاف کے نظام کو سیاسی مداخلت سے داغدار کرنے کا الزام مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔عالمی ادارے بھی بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، اور مودی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
نتیجہ:
یہ معاملہ بی جے پی کی خواتین مخالف پالیسیوں اور مودی حکومت کی خاموشی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان، سیاسی جماعتیں، اور سول سوسائٹی اس واقعے کو بھارت کے نظام انصاف اور خواتین کے تحفظ کے لیے ایک امتحان قرار دے رہے ہیں۔